کتاب: فتاوی ابن باز - صفحہ 19
داڑھی مونڈنے پر اصرار کبیرہ گناہ ہے۔ ایسے شخص کو سمجھانا اور اس غلطی سے منع کرنا چاہئے۔ (۷) جب ایسا شخص دینی قیادت کے مقام پر فائز ہو پھر تو اسے منع کرنا اور بھی زیادہ ضروری ہوجاتا ہے۔ لہٰذا اگر وہ نماز کی امامت کرتا ہے اور نصیحت کرنے پر بھی باز نہیں آتا تو اسے اس منصب سے ہٹا دینا ضروری ہے بشرطیکہ یہ ممکن ہو اور فتنہ پیدا ہو نے کا خطرہ نہ ہو۔ ورنہ اس سے ناراضگی کا اظہار کرنے کے لئے اور اسے اس گناہ سے باز رکھنے کے لئے کسی دوسرے نیک آدمی کے پیچھے نماز ادا کرنا ضروری ہے۔ البتہ اگر کوئی دوسرا نیک آدمی میسر نہ ہو یا اس کے پیچھے نماز پڑھنے میں کوئی مشکل ہو تو نماز باجماعت قائم رکھنے کے لئے اس کے پیچھے نماز پڑھ لی جائے۔ اسی طرح اگر دوسرے آدمی کے پیچھے نماز پڑھنے سے فتنہ پیدا ہونے کا خطرہ ہو تو فتنہ کے سدباب کے لئے کم نقصان برداشت کرتے ہوئے اس کے پیچھے نماز پڑھ لی جائے۔ وَبِاللّٰہِ التَّوْفِیْقُ وَصَلَّی اللّٰہُ عَلٰی نَبِیَّنَا مُحَمَّدٍ وَآلِہٖ وَصَحْبِہٖ وَسَلَّمَ اللجنۃ الدائمۃ ۔ رکن: عبداللہ بن قعود، عبداللہ بن غدیان، نائب صدر: عبدالرزاق عفیفی، صدر عبدالعزیز بن باز ٭٭٭ فتویٰ (۹۴۰۷) اللہ اور اس کے گستاخ کے ذبیحہ کا حکم سوال بعض لو گ کوئی اسلامی (دینی) کام نہیں کرتے قرآن نہیں پڑھتے بلکہ قرآن مجید کی ایک آیت بھی نہیں جانتے۔ نماز پڑھتے ہیں نہ زکوٰۃ دیتے ہیں۔ دین اسلام اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخیاں کرتے رہتے ہیں۔ بلکہ ایک دن میں بیس بیس بار اللہ تعالیٰ کو بھی گالی دے ڈالتے ہیں۔ جب ایسے شخص سے بات کی جائے تو کہتا ہے ’’میں مسلمان ہوں۔ لاالہ الا اللہ محمد رسول اللہ کا اقرار کرتا ہوں۔‘‘ سوال یہ ہے کہ ہم ایسے افراد کا ذبیح کیا ہوا کھا سکتے ہیں؟ جب کہ معاشرہ میں اسطرح کے بے شمار افراد پائے جاتے ہیں۔ جواب لْحَمْدُ للّٰہ وَالصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلٰی رَسُوْلِہِ آلِہِ وَأَصْحَابِہ وَبَعْدُ: (۱) نماز کی فرضیت کا انکار کرتے ہوئے نماز چھوڑنا بالااتفاق کفر ہے، اس پر امت کا اجماع ہے۔ لاپروائی اور سستی نماز چھوڑنے کے متعلق علماء کے دوقول ہیں۔ ان میں راجح یہی ہے کہ یہ کفر ہے۔ (۲) اللہ تعالیٰ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یا دین اسلام کو گالی دینا کفر اکبر ہے اور یہ حرکت کرنے والا مرتد ہوجاتا ہے۔ اسے توبہ کرنے کا حکم دیا جائے گا۔ اگر توبہ کر لے تو بہتر ورنہ حاکم کا فرض ہے کہ اسے سزائے موت دے۔ ارشاد رنبوی ہے: (مَنْ بَدَّلَ دِیْنَہُ فَاقْتَلُوْہُ)(صحیح بخاری ) ’’جو شخص اپنا دین بدل ڈالے اسے قتل کردو‘‘ یہ حدیث امام بخاری نے اپنی کتاب ’’صحیح‘‘ میں روایت کی ہے۔ (۳) مرتد کے ذبح کئے ہوئے جانور کا گوشت کھانا جائز نہیں۔ لیکن اگر وہ سچی توبہ کر لے تو توبہ کے بعد اس نے جو جانور ذبح کیا وہ حلال ہے۔ اسی طرح دوسرے کافر کا بھی یہی حکم ہے جو اہل کتاب میں سے نہیں۔ اگرچہ وہ زبان سے لاالہ