کتاب: فتاوی ابن باز - صفحہ 187
فَیَسَرَی اختِلاَفاً کَثِیْراً فَعَلَیْکُمْ بِسُنَّتِي وَسُنَّۃِ الْخُلَفَائِ الرَّاشِدِینَ عَضُوا عَلَیْھَا بِالنَّوَاجِذِ وَاِیَّاکُمْ وَمُحْدَثَاتِ الْأُمُورِ فَأِنْ کُلَّ مُحْدَثَۃِ بِدْعَۃٌ وَکُلَّ بِدْعَۃٍ ضَلاَلَۃٌ) ’’میں تمہیں اللہ سے ڈرنے کی وصیت کرتا ہوں اور (حکم) سن کر تعمیل کرنے کی (وصیت کرتاہوں) اگرچہ ایک خلافائے راشدین کی سنت پر قائم رہنا۔ اسے داڑھوں سے (خوب مضبوطی سے) پکڑنا اور نئے نکالے جانے والے کاموں سے بچنا۔ کیونکہ ہر نیا نکالا جانے والا کام بدعت ہے اور ہر بدعت گمراہی ہے۔‘‘ اس حدیث کو امام ابو داؤد اور امام ترمذی نے روایت کیا ہے اور امام ترمذی نے اسے ’’حسن صحیح‘‘ قراردیا ہے۔ اسی طرح سوال میں استغفار اور درود شریف کے ورد کے متعلق جو سوال کیا گیا ہے، اس کا بھی یہی جواب ہے۔ وہ اگرچہ بامعنی کلام ہے اور وہ بنیادی طور پر کار ثواب اور شرعی عبادت ہے۔ لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ ثابت نہیں کہ اس کے لئے صبح اور شام کا وقت مقرر کیا جائے یا ان اوقات میں ان کی ایک تعداد مقرر لی جائے جس میں کمی بیشی نہ کی جائے۔ یا شیخ اپنے مرید سے کسی خاص ذکر کا وعدہ لے، عبادت میں اس طرح کی تخصیص بدعت ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (مَنْ أَحْدَثَ فِي أَمْرِنَا ھٰذَا مَا لَیْسَ مِنْہُ فَھُوَ رَدٌّ) ’’جس نے ہمارے اس دین میں اسی چیز ایجاد کی جو اس میں نہیں تھی تو وہ ناقابل قبول ہے۔‘‘ اس حدیث کو بخاری اور مسلم رحمہ اللہ نے روایت کیا ہے۔ صحیح مسلم کی ایک روایت میں یہ لفظ ہیں: (مَنْ عَمِلَ عَمَلاً لَیْسَ عَلَیْہِ أَمْرُنَا فَھُوَردٌّ) ’’جس نے کوئی ایسا کام کیا جو ہمارے طریقے کے مطابق نہیں ہے وہ ناقابل قبول ہے۔‘‘ لیکن جو شخص اس مقرر تعداد سے یا اس مقرر وقت پر ان الفاظ کے ساتھ ذکر کرے جو صحیح احادیث میں مذکور ہیں تو یہ بہت ا چھی بات ہے۔ مثلاً یہ ثابت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (مَنْ قَالَ: لاَ أِلٰہَ أِِللّٰہُ وَحْدَہُ لاَ شَرِیْکَ لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ وَھُوَ عَلیٰ کُلِّ شَئي قَدِیْرٌ فِي یَوْمٍ مِائَۃَ مَرَّۃٍ کَانَتْ لَہُ عَدْلَ عَشْرِ رِقَابٍ وَکُتِبَتْ لَہُ حَسَنَۃٍ وَمُحِیَتُ عَنْہُ مِاۂ سَیَّئَۃٍ وَکَانَتْ لَہُ حِرْزاً مِنَ الشَّیْطَانِ یَوْمَہُ ذٰالِکَ حَتَّی یُمْسِیَ، وَلَمْ یَأْتِ أَحَدٌ بِأَفْضَلَ مِمَّا جَائَ بِہِ أِلاَّ رَجُلٌ عَمِلَ أَکْثَرَ مِنْہُ) ’’جو شخص دن میں سو بار کہے: لا الہ الا اللہ وحدہ لا شریک لہ لہ الملک ولہ الحمد وطو علی کل شي قدیر اسے دس غلام آزاد کرنے کا ثواب ملے گا اور اس کے لئے سونیکیاں لکھی جائیں گی اور اس کے سو گناہ معاف ہوجائیں گے اور وہ اس دن شام تک شیطان سے محفوظ رہے گا اور کسی کا عمل اس سے افضل نہیں ہوگا مگر جس نے اس سے زیادہ عمل کیا۔‘‘ اس حدیث کو امام بخاری اور امام مسلم رحمہ اللہ نے روایت کیا ہے۔ اسی طرح یہ بھی ثابت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (مَنْ قَالَ سُبْحَانَ اللّٰہِ وَبِحَمْدِہِ فِي یَوْمٍ مِائَۃَ مَرَّۃٍ حُطَّتْ عَنْہُ خَطَایَاہُ وَأِنْ کَانَتْ مِثْلَ زَبَدِ الْبَحْرِ) ’’جس نے ایک دن میں سو مرتبہ سبحان اللّٰه وبحمدہ کہا، اس کے گناہ معاف ہوجائیں گے اگرچہ سمندر کی جھاگ کے برابر ہوں۔‘‘