کتاب: فتاوی ابن باز - صفحہ 182
دوسرے نے شرم کی‘ تو اللہ نے بھی اس سے شرم کی[1] اور تیسرے نے اعراض کیا تو اللہ نے بھی اسے اعراض کرلیا۔‘‘[2] صحی بخاری میں اور دیگر کتابوں میں حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (أِنَّ مِنَ الشَّجَرِ شَجَرَۃًلاَ یَسْقُطُ وَرَقُھَا؟ وَأِنَّھَا مَثَلُ الْمُؤْمِنِ حَدِّثُوْنِي مَا ھِیَ؟)) ’’درختوں میں سے ای درخت ایسا ہے جس کے پتے نہیں گرتے اور اس کی مثال مومن کی سی ہے، مجھے بتاؤ وہ کونسا درخت ہے؟‘‘ لوگ جنگلوں کے درختوں میں پڑ گئے[3] عبداللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ’’میرے دل میں خیال آیا کہ وہ کھجور کا درخت ہے (لیکن میں خاموش رہا۔) پھر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کی‘ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ہمیں بتا دیجئے وہ کونسا درخت ہے؟ فرمایا: (ھِیَ النَّخْلَۃُ) ’’وہ کھجور کا درخت ہے۔‘‘[4] اس کے علاوہ اور بہت سی مثالیں ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے، صحابہ رضی اللہ عنہم کے ساتھ مل کر ذکر کرنے کی عملی صورت یہ تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں تعلیم دیتے اور ان کی رہنمائی فرماتے، وعظ ارشاد فرماتے، ان کا امتحان لیتے اور فہم وعبرت سے بھر پور تلاوت ہوتی‘ ایسا کبھی نہیں ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہفتہ کے کسی دن یا رات کو خاص کر کے اپنے صحابہ کے ساتھ مل کر باجماعت اللہ تعالیٰ کے کسی مبارک نام کا ذکر اس طرح کیا ہو کہ وہ دائرہ کی صورت میں یا صف بنا کر کھڑے یا بیٹھے ہوں اور نشہ بازوں کی طرح جھومتے ہوں اور نغموں کے سروں، گویوں کے گانوف‘ دف کی تال‘ ڈھول کی تھاپ اور سازوں کی آواز پر بے خود ہو کر ناچنے والوں کی طرح تھرکتے ہوں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جو کام صوفیہ آج کل کرتے ہیں وہ بدعت اور گمراہی ہے ج سے اللہ تعالیٰ ناراض ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: (مَنْ حَدَّثَ فِي أَمْرِنَا ھٰذَا مَا لَیْسَ مِنْہُ فَھُوَ رَدّٔ) جس نے ہمارے دین میں بدعت نکالی جو (اصل میں) اس کا جز نہیں تھی‘ تو وہ مردود ہے‘‘ متفق علیہ۔ تیسرا مسئلہ یہ ہے کہ نعت خواں اس طرح کے جو الفاظ کہتے ہیں یا حسین مدد‘ یا سیدہ زینب مدد‘ یا بدوی یا شیخ العرب مدد‘ یا رسول اللہ مدد یا اولیاء اللہ مدد وغیرہ یہ زیادہ برا کام ہے اور اس کا گناہ بھی زیادہ ہے۔ کیونکہ یہ شراب اکبر میں داخل ہے جس کا مرتکب ملت اسلامیہ سے خارج ہوجاتا ہے۔ کیونکہ یہ مردوں سے فریاد ہے کہ انہیں بھلائی اور مال دیں، ان کی فریاد رسی کریں، ان سے مشکلات اور تکالیف دور کریں۔کیونکہ یہاں مدد سے مراد فریاد رسی اور عطا کرنا ہے۔ یعنی جب کوئی [1] یعنی اللہ نے اس کی شرم رکھی، اسے ثواب سے محروم نہیں رکھا۔ [2] جب اس نے علم وذکر میں رغبت کا اظہار نہیں کیا تو ثواب اور رحمت سے محروم رہا۔ صحیح بخاری حدیث نمبر: ۶۶، ۴۷۴، صحیح مسلم حدیث نمبر:۲۱۷۶۔ [3] یعنی مختلف درختوں کے بارے میں سوچنے لگے شاید فلاں درخت ہے یا فلاں درخت ہے۔ [4] صحیح بخاری حدیث نمبر ۶۱، ۷۲، ۲۲۰۹، ۴۶۹۷، ۵۴۴۴، ۶۱۳۲، ۶۱۴۴۔ صحیح مسلم حدیث نمبر : ۲۱۶۵۔ ترمذی حدیث نمبر: ۲۸۷۱