کتاب: فتاوی ابن باز - صفحہ 180
﴿اِنَّ الَّذِیْنَ فَرَّقُوْادِیْنَمُ وَکَانُوْ اشِیَعًا لَّسْتَ مِنْہُمْ فِیْ شَیْئٍ اِنَّمَآ اَمْرُہُمْ اِلَی اللّٰہِ ثُمَّ یُنَبِّۂ مْ بِمَا کَانُوْا یَفْعَلُوْن﴾ (الانعام۶؍۱۵۹) ’’جنہوں نے اپنے دین میں ترفقہ ڈالا اور (مختلف) گروہ بن گئے آپ کا ان سے کوئی تعلق نہیں۔ ان کا معاملہ اللہ کے سپرد ہے، پھر وہ انہیں بتائے گاکہ وہ کچھ کرتے رہے تھے۔‘‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق کہیں مذکور نہیں کہ آپ نے مفرد اسم مثلا حی‘ قیوم’ حق اللہ وغیرہ کے ساتھ ذکر کیاہو، یا اس کا حکم دیا ہو اسے روزانہ پڑھنے کے لئے وظیفہ قراردیا ہو اور نہ کہیں یہ مذکور ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کو ایک دوسرے سے دوستی رکھنے سے منع کیا ہو بلکہ آپ نے انہیں ایک دوسرے سے دوستی اور محبت رکھنے کا حکم دیا او ران کی تعریف کرتے ہوئے ان کا یہ وصف بیان فرمایا: ﴿وَ الْمُؤْمِنُوْنَ وَالْمُؤْمِنٰتِ بَعْضُہُمْ اَوْلِیَآئُ بَعْضٍ یَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَ یَنْہَوْنَ عَنِ الْمُنْکَرِ وَ یُقِیْمُوْنَ الصَّلٰوۃَ وَ یُؤْتُوْنَ الزَّکٰوۃَ وَ یُطِیْعُوْنَ اللّٰہَ وَ رَسُوْلَہٗ اُولٰٓئِکَ سَیَرْحَمُہُمُ اللّٰہُ اِنَّ اللّٰہَ عَزِیْزٌ حَکِیْم﴾ (التوبۃ۹؍۸۱) ’’مومن مرد اور عورتیں باہم ایک دوسرے کے دوست ہیں وہ بھلائی کا حکم دیتے، برائی سے روکتے، نماز قائم کرتے، زکوٰۃ دیتے اور اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی اطاعت کرتے ہیں، یہی لوگ ہیں جن پر اللہ تعالیٰ کی رحمت فرمائے گا۔ اللہ یقیناً غالب اور حکمت والا ہے۔‘‘ اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے کہ آپ نے فرمایا: (لاَ یُوْمِجُ أَحَدُکُمْ حَتَّیٰ یُحِبَّ لأخِیہِ مَا یُحِبُّ لِنَفْسِہٖ) تم میں سے کوئی شخص مومن نہیں بن سکتا حتیٰ کہ اپنے بھا ئی کے لئے وہی پسند نہ کرے جو اپنے لئے پسند کرتاہے۔‘‘ [1] اور یہ بھی ثابت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (اَیَّاکُمْ وَاظَّنَّ فَأِنَّ الظَّنَّ أَکْذًَُ الْحَدِیْثِ‘ وَلاَ تَحَسَّسُوا وَلاَ تَجَسَّسُوا وَلاَ تَدَابَرُوْا وَلاَ تَبَاغَضُوا وَکُوْنُوْا عِبَادَاللّٰہ أِخْوَاناً) ’’بدگمانی سے بچو، سب سے جھوٹی بات ہے اور ٹوہ نہ لگاؤ اور جاسوسی نہ کرو اور ایک دوسرے سے حسد نہ کرو، ایک دوسرے سے منہ نہ پھیرو[2] ایک دوسرے سے بغض نہ رکھو اور اللہ کے بندے بھائی بھائی بن جاؤ۔‘‘[3] (۲) چند افراد کامل کر قرآن مجید کی تلاوت‘ مطالعہ،تدبر اور اس کے معانی ومطالب پر غوروفکر کرنا ایک ایسا کام ہے جس کی فضیلت جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان فرمائی ہے۔ چنانچہ ارشاد نبوی ہے: (مَااجْتَمَعَ قَوْمٌ فِي بَیْتٍ اللّٰہِ یَتْلُوْنَ کِتَابَ اللّٰہِ وَیَتَدَارَ سُونَہُ بَیْنَھُمْ أِلاَّ نَزَلَتْ [1] صحیح بخاری حدیث نمبر: ۱۷۔ صحیح مسلم حدیث نمبر: ۷۲۔ جامع ترمذی حدیث نمبر: ۲۵۱۷۔ کتاب الایمان ابن مندہ حدیث نمبر: ۲۹۵۔ [2] حدیث کا لفظ ’’لایدابروا،، ہے۔ اس کامطلب بھی بیان کیا گیا ہے کہ ’’چغلی نہ کھاؤ۔،، [3] مسند احمد ج:۲، ص:۲۴۵، ۲۸۷،۳۱۲، ۳۴۲، ۴۶۵، ۴۹۲، ۵۰۷، ۵۱۷، ۵۳۹۔ صحیح بخاری حدیث نمبر: ۵۱۴۳۔