کتاب: فتاوی ابن باز - صفحہ 177
جو شخص کسی کام کو عبادت سمجھ کر کرتا ہے، یا کسی عبادت کے لے (اپنی رائے سے) کسی وقت یا کیفیت کا تعین کرتا ہے، اس سے دلیل کامطالبہ کیا جائے گا۔ سوال میں جن کاموں کا ذکر ہے ہمارے علم میں ان کی کوئی شرعی دلیل موجود نہیں جس پر اعتماد کیا جاسکے اور رسول ا للہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ اردشاد صحیح حدیث سے ثابت ہے کہ: (مَنْ أَْحْدَثَ فِي أَمْرِنَا ھٰذَا مَا لَیْسَ مِنْہُ فَھُوَرَدٌّ) جس نے ہمارے دین میں وہ کام ایجاد کا جو اس میں سے نہیں، تو وہ ناقابل قبول ہے۔‘‘ لہٰذا سوال میں جو کیفیت ذکر کی گئی ہے وہ بھی رد کرنے کے قابل ہے۔ صوفیہ کا یہ خیال درست نہیں سوال کیاصوفیہ کا یہ خیال بھی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو وحی نازل ہونے سے پہلے قرآن کا علم حاصل تھا؟ جواب اَلْحَمْدُ للّٰہ وَالصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلٰی رَسُوْلِہِ وآلِہِ وَأَصْحَابِہ وَبَعْدُ: قرآن مجید اپنے الفاظ ومعانی کے ساتھ اللہ کا کلام ہے۔ اس میں سے سب سے پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر اقراء کی آیات نازل ہوئیں۔ اس کے بعد تیئیس ۲۳ سال تک تھوڑا تھوڑا نازل ہوتارہا۔ اللہ عزوجل نے یہ بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نزول قرآن سے پہلے قرآن نہیں جانتے تھے۔ مثلاً ارشاد ہے: ﴿وَکَذٰلِکَ اَوْحَیْنَا اِِلَیْکَ رُوحًا مِنْ اَمْرِنَا مَا کُنْتَ تَدْرِی مَا الْکِتٰبُ وَلَا الْاِِیْمَانُ﴾ (الشوریٰ۴۲؍۵۲) ’’اسی طرح ہم نے آپ پر اپنے حکم سے روح (یعنی قرآن) کی وحی کی۔ آپ نہیں جانتے تھے کہ کتاب کیا ہوتی ہے اور ایمان کیا ہوتا ہے؟‘‘ اس سے معلوم ہوا کہ صوفیہ کا یہ کہنا درست نہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم وحی نازل ہونے سے پہلے بھی قرآن سے واقف تھے۔ یہ تو بغیر علم کے (اپنے پاس سے) باتیں بنا کر اللہ کے ذمہ لگانے میں شامل ہے۔ اسی طرح صوفیہ یا دوسرے جو بھی یہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غیب جانتے تھے، یہ غلط‘ گمراہی اور کفر والی بات ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کے سواکوئی غیب نہیں جانتا۔ اس کی دلیل اللہ عزوجل یہ فرمان ہے: ﴿قُلْ لَّا یَعْلَمُ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ الْغَیْبَ اِلَّا اللّٰہُ ﴾ ’’(اے پیغمبر!) کہہ دیجئے آسمانوں اور زمین میں اللہ کے سوا کوئی غیب نہیں جانتا۔‘‘ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیداری میں زیارت ممکن نہیں سوال کیا یہ درست ہے کہ بیداری میں بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت ممکن ہے، جس طرح صوفیہ دعویٰ کرتے ہیں کہ انہیں بیداری میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت ہوتی ہے؟ جواب اَلْحَمْدُ للّٰہ وَالصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلٰی رَسُوْلِہِ وآلِہِ وَأَصْحَابِہ وَبَعْدُ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وفات پاچکے ہیں اور قبر مبارک میں نبی علیہ السلام کی برزخی زندگی ہے جس کی کیفیت اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا اور بیداری میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کا دعویٰ درست نہیں کیونکہ اس کی کوئی دلیل نہیں اور اس لئے بھی کہ صحیح احادیث سے ثابت ہے کہ قیامت کے دن سب سے پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر مبارک شق ہوگی۔ اس سے معلوم ہواکہ قیامت سے پہلے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے مرقد مبارک سے باہر تشریف نہیں لاتے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کے متعلق بھی اور دوسروں کے متعلق بھی فرمایا ہے: