کتاب: فتاوی ابن باز - صفحہ 175
فتویٰ (۹۸۴۸) صوفیانہ سلسلوں سے بچنا چاہئے سوال کیا صوفیوں کے سلسلے شاذلیہ،رفاعیہ وغیرہ حق پر ہیں یا گمراہ اور اختلاف کا باعث ہیں؟ کیا ان میں سے کسی فرقہ کی طرف اپنی نسبت کرنا جائز ہے؟ جواب اَلْحَمْدُ للّٰہ وَالصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلٰی رَسُوْلِہِ وآلِہِ وَأَصْحَابِہ وَبَعْدُ: صوفیوں کے تمام سلسلوں میں بدعت اور مخالفت شریعت بکثرت ہے۔ اس لئے ان سے بچنا ضروری ہے۔ وَبِاللّٰہِ التَّوْفِیْقُ وَصَلَّی اللّٰہُ عَلٰی نَبِیَّنَا مُحَمَّدٍ وَآلِہٖ وَصَحْبِہٖ وَسَلَّمَ اللجنۃ الدائمۃ ۔ رکن: عبداللہ بن قعود، عبداللہ بن غدیان، نائب صدر: عبدالرزاق عفیفی، صدر عبدالعزیز بن باز ٭٭٭ فتویٰ (۲۶۱۲) ’’صاحب زمان‘‘ کا مطلب سوال تصوف کی طرف منسوب لوگ کہتے ہیں: فلاں ’’صاحب زمان‘‘ ہے اور اہل فلاں ’’اہل تعریف‘‘ میں سے ہے، اس کا مطلب کیا ہے؟ اس قسم کا عقیدہ رکھنے والے کا کیا حکم ہے؟ اگر کسی شخص کے متعلق (یقین کے ساتھ) معلوم ہو کہ وہ اس قسم کا عقیدہ رکھتا ہے تو کیا اس کے پیچھے نماز پڑھنا درست ہے؟ جواب اَلْحَمْدُ للّٰہ وَالصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلٰی رَسُوْلِہِ وآلِہِ وَأَصْحَابِہ وَبَعْدُ: ’’صاحب زمان‘‘ کا مطلب ان کے نزدیک یہ ہے کہ ایک انسان ایسا ہے جس کے ہاتھ میں مخلوقات کا تمام کام ہیں اور وہ ان کے کامو ں میں تصرف کرسکتاہے یعنی انہیں مصیبتوں سے نجات دے سکتاہے اور مشکلات سے چھڑا سکتا ہے اور جسے چاہے جو بھلائی چاہے دے سکتا ہے۔ جو شخص اس قسم کا عقیدہ رکھے اس نے اللہ تعالیٰ کی ربوبیت اور مخلوقات کے معاملات کے انتظام میں اللہ کا شریک بنالیا۔ لہٰذا ایسے شخص کے پیچھے نماز پڑھنا یا اسے مسلمانوں کا حاکم بنانا یا نماز میں مسلمانوں کا امام بنانا درست نہیں، کیونکہ اس نے صریح کفر اور واضح شرک کا ا رتکاب کیا ہے۔ بلکہ وہ زمانہ جاہلیت کے مشرک لوگوں سے بھی بدتر ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: ﴿قُلْ مَنْ یَّرْزُقُکُمْ مِّنَ السَّمَآئِ وَ الْاَرْضِ اَمَّنْ یَّمْلِکُ السَّمْعَ وَ الْاَبْصَارَ وَ مَنْ یُّخْرِجُ الْحَیَّ مِنَ الْمَیِّتِ وَ یُخْرِجُ الْمَیِّتَ مِنَ الْحَیِّ وَ مَنْ یُّدَبِّرُ الْاَمْرَ فَسَیَقُوْلُوْنَ اللّٰہُ فَقُلْ اَفَلَا تَتَّقُوْنَ ٭فَذٰلِکُمُ اللّٰہُ رَبُّکُمُ الْحَقُّ فَمَاذَا بَعْدَ الْحَقِّ اِلَّا الضَّلٰلُ فَاَنّٰی تُصْرَفُوْن﴾ ’’کہہ دیجئے (یعنی ان سے پوچھئے) کون ہے جو تمہیں آسمان اور زمین سے رزق دیتا ہے؟ یا کون ہے جو کانوں اور آنکھوں کا مالک ہے؟ اور بے جان سے جان دار کو اور جان دار سے بے جان کو کون نکالتا ہے؟ اور کون کاموں کی تدبیر کرتاہے؟ وہ کہیں گے: اللہ (ہی یہ سب کام کرتاہے) کہئے ’’پھر کیا تم (اس سے) ڈرتے نہیں ہو؟ یہ ہے اللہ ‘تمہارا سچا مالک۔ تو حق کے بعد گمراہی کے علاوہ اور کیا رہ جاتا ہے؟ پھر تمہیں کدھر پھیرا جارہا ہے؟‘‘ اس کے علاوہ بھی بہت سی آیات میں یہ مضمون بیان ہوا ہے۔ وَبِاللّٰہِ التَّوْفِیْقُ وَصَلَّی اللّٰہُ عَلٰی نَبِیَّنَا مُحَمَّدٍ وَآلِہٖ وَصَحْبِہٖ وَسَلَّمَ اللجنۃ الدائمۃ ۔ رکن: عبداللہ بن قعود، عبداللہ بن غدیان، نائب صدر: عبدالرزاق عفیفی، صدر عبدالعزیز بن باز ٭٭٭