کتاب: فتاوی ابن باز - صفحہ 172
تصوف تصوف فتویٰ (۶۲۵۸) تصوف اور گنبد نما قبروں کے بارے میں سوال سوال تصوف کی حقیقت کیا ہے؟ کیا تصوف کے کچھ اچھے پہلو اور کچھ برے پہلو ہیں؟ کیا تصوف فقہ سے الگ کوئی چیز ہے؟ (۲) گزارش ہے کہ مجھے بتائیں کہ صوفیہ کے ہاں الحضرۃ النبویۃ کا جو تصور پایا جاتاہے اس کی حقیقت کیا ہے؟ (۳) ہمارے ہاں سوڈان میں بعض صوفیہ قبر پر گنبد بنانے کی دلیل کے طور پر جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر پر بنے ہوئے گنبد کا ذکر کرتے ہیں۔ دین میں اس کا کیا حکم ہے؟ جواب اَلْحَمْدُ للّٰہ وَالصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلٰی رَسُوْلِہِ وآلِہِ وَأَصْحَابِہ وَبَعْدُ: (۱) تصوف سے متعلق سوالات کے بارے میں آپ ابن قیم کی کتاب ’’مدارج السالکین‘‘ اور عبدالرحمن الوکیل کی کتاب ’’ھذہ ھی الصوفیۃ‘‘ کا مطالعہ کیجئے۔ (۲) نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے مرقد مبارک پر قبر بنا ہوا ہونا اس کی دلیل نہیں کہ ا ولیاء اللہ اور نیک لوگوں کی قبروں پر گنبد بنانا جائز ہے۔ کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر پر قبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وصیت سے بنا ہے نہ صحابہ وتابعین یا قرون اولیٰ کے ائمہ کرام میں سے کسی نے بنایا ہے۔ بلکہ یہ کام اہل بدعت نے کیا ہے اور صحیح حدیث میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کایہ ارشاد روایت ہوا ہے: (مَنْ أَحْدَثَ فِي أَمْرِنَا ھٰذَا مَا لَیْسَ مِنْہُ فَھُوَ رَدٌّ( ’’جس نے ہمارے اس دین میں کوئی نیا کام نکالا جو (دراصل) اس میں سے نہیں، وہ ناقابل قبول ہے۔‘‘ اور صحیح حدیث میں ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہما نے حضرت ابو الہیاج رحمہ اللہ سے فرمایا: (أَلاَ أَبْعَثُکَ عَلیٰ مَا بَعَثَنِي عَلَیہِ رَسُولُ اللّٰہِ صلی اللّٰه علیہ وسلم أَنْ لاَ تَدَعَ تِمْثَا لاً أِلاَّ طَمَسْتَہُ وَلاَ قَبْراً مُشْرِفاً أِلاَّ سَوَّیْتَہُ( ’’کیا تمہیں اس کام کے لئے نہ بھیجوں، جس کے لئے مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھیجا تھا؟ (میں تمہیں اس لئے بھیج رہا ہوں) کہ تو کوئی تصویر مٹائے بغیر نہ چھوڑ اور کوئی اونچی قبر برابر کئے بغیر نہ رہنے دے۔‘‘ یہ حدیث امام مسلم نے روایت کی ہے۔ چونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنی قبر پر گنبد بنانا ثابت نہیں، نہ ائمہ کرام سے یہ عمل ثابت ہے، بلکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کی تردید ثابت ہے، اس لئے اب کسی مسلمان کے لئے مناسب نہیں کہ اہل بدعت