کتاب: فتاوی ابن باز - صفحہ 17
٭٭٭٭ فتویٰ (۳۲۵۵) بے دین والدین کے متعلق دو سوالات سوال میرے والد صاحب مصر میں سرکاری ملازم ہیں۔ وہ رشوت لیتے ہیں۔ قرآن وحدیث کو برا بھلا کہتے ہیں۔ جب ان کے سامنے پردے کی آیات کاذکر کیا جائے تو کہتے ہیں ’’تعصب نہ کرو‘‘کبھی مسجد میں نماز پڑھ لیتے ہیں۔ کبھی گھر میں یا باہر نماز پڑھ لیتے ہیں۔ کبھی کئی کئی نمازیں ملا کر بھی پڑھ لیتے ہیں۔ والدہ تو بالکل نماز نہیں پڑھتیں۔ لیکن میری بہنیں نماز پڑھتی ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا میں ان لوگوں کے ساتھ رہائش رکھ سکتا ہوں؟ اور والد کی کمائی سے کھا سکتا ہوں اور دوسری ضروریات پوری کر سکتا ہوں؟ جواب اَلْحَمْدُ للّٰہ وَالصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلٰی رَسُوْلِہِ آلِہِ وَأَصْحَابِہ وَبَعْدُ: قرآن مجید کی آیات اور صحیح احادیث کو گالی دینا کفر ہے جس سے انسان دائرہ اسلام سے خارج ہوجاتا ہے اور جاب بوجھ کر نماز کو چھوڑنا بھی کفر ہے اور رشوت لینا کبیرہ گناہ ہے۔ سب سے پہلے تو آپ پر لازم ہے کہ والدین کو پانچوں نمازیں وقت پر ادا کرنے کی نصیحت کریں۔ والد کو ہر قسم کے گالی گلوچ خصوصاً قرآن وحدیث کی گستاخی اور پردہ کی توہین سے پرہیز کرنے کی نصیحت کریں اور رشوت چھوڑدینے کی تلقین کریں۔ اگر ضرورت قبول کرلیں تو بہتر، ورنہ آپ نصیحت کرتے رہیں اور ان سے حسن سلوک کرتے رہیں۔ شاید آپ کی وجہ سے انہیں ہدایت نصیب ہوجائے۔ البتہ ان سے اس قسم کا میل جول نہ رکھیں جس سے آپ کے دین کو نقصان پہنچے۔ انہیں ایذا نہ پہنچائیں اور دنیوی امور میں حسب دستور ان کے ساتھ مناسب برتاؤ رکھیں۔ اور اپنی بہنوں کو نصیحت کرتے رہیں تاکہ والدین کے ساتھ رہنے سے وہ بھی گمراہ نہ ہوجائیں۔ دوسرے سوال کا جواب یہ ہے کہ اگر آپ کے والد صاحب کی آمدنی کا اس حرام کمائی کے علاوہ کو ئی اور ذریعہ نہیں ہے پھر آپ ا س میں سے نہ کھائیں اور اگر ان کا کچھ مال حلال اور کچھ حرام یعنی ملا جلا ہے تو اس صورت میں علماء کا صحیح قول یہی ہے کہ آپ کے لئے اس میں سے کھانا جائز ہے۔ تاہم اگر آپ اس سے پرہیز کرسکتے ہیں تو بہتر ہے۔ وَبِاللّٰہِ التَّوْفِیْقُ وَصَلَّی اللّٰہُ عَلٰی نَبِیَّنَا مُحَمَّدٍ وَآلِہٖ وَصَحْبِہٖ وَسَلَّمَ اللجنۃ الدائمۃ ۔ رکن: عبداللہ بن قعود، عبداللہ بن غدیان، نائب صدر: عبدالرزاق عفیفی، صدر عبدالعزیز بن باز ٭٭٭ فتویٰ (۵۶۲۸) چند اہم سوالات سوال مندرجہ ذیل افر اد کے بارے میں اسلام کا کیا فیصلہ ہے؟ کیا انہیں کافر سمجھا جائے؟ (۱) جو کہتا ہے ’’میں قرآن کو نہیں مانتا‘‘ یا ’’فلاں آیت پر ایمان نہیں رکھتا‘‘ کیا اسے کافر قرار دیا جائے گا۔؟ (۲) جو کہتاہے ’’میں تو صرف اپنی عقل پر ایمان لاتا ہوں۔‘‘ (۳) جو کسی کو کہتا ہے ’’تم مرتد ہوگئے ہو‘‘ کیونکہ وہ ایک بے پردہ لڑکے ساتھ کہیں گیا تھا۔ (۴) جوکہتا ہے ’’مجھے فلاں تفسیر کی کوئی ضرورت نہیں‘‘ (۵) جو گھر کے افراد کو اپنے گھر میں جمعہ پڑھاتا ہے اور خطبہ دیتا ہے او رکہتا ہے ’’میں نے گھر میں ہی جمعہ کی نماز ادا کرلی