کتاب: فتاوی ابن باز - صفحہ 156
اس حدیث کے تحت آتی ہیں۔ (سَتَفْتَرِقُ أُمَّتِیی عَلَی ثَلاَثٍ وَسَبْعِینَ فِرْقَۃ کُلُّھُمْ فِیی النَّارِ أِلاَّ وَاحِدَۃً) ’’میری امت عنقریب تہتر فرقوں میں تقسیم ہوجائے گی وہ سب فرقے جہنم میں جائیں گے سوائے ایک کے‘‘ ہم ان سب پارٹیوں کو کیسے ایک جگہ جمع کرسکتے ہیں مثلاً اخوان المسلمین‘ سلفیہ،خلفیہ،جماعت التکفیروالہجرۃ‘ تبلیغی جماعت اور صوفیہ…وغیرہ۔ جواب اَلْحَمْدُ للّٰہ وَالصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلٰی رَسُوْلِہِ آلِہِ وَأَصْحَابِہ وَبَعْدُ: اللہ تعالیٰ کا دین ایک ہے اور اللہ تک پہنچنے کا راستہ بھی ایک ہے، جو شخص دین اسلام پر قائم ہے اور اس طریقے پر ہے جس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تھے، وہی صحیح ہے۔ وَبِاللّٰہِ التَّوْفِیْقُ وَصَلَّی اللّٰہُ عَلٰی نَبِیَّنَا مُحَمَّدٍ وَآلِہٖ وَصَحْبِہٖ وَسَلَّمَ اللجنۃ الدائمۃ ۔ رکن: عبداللہ بن قعود، عبداللہ بن غدیان، نائب صدر: عبدالرزاق عفیفی، صدر عبدالعزیز بن باز ٭٭٭ فتویٰ (۷۲۷۸) ایک گروہ کے سوا سب جہنم میں جائیں گے سوال بہت عرصہ سے یہ حدیث مجھے معلوم ہے اس پر عمل پیرا ہوں۔ حدیث یہ ہے: (َسَتَفْتَرِقُ أُمَّتِی۔ ھَذَِہِ الاُمَّۃُ۔ عَلَی ثَلاَثٍ وَسَبْعِینَ فِرْقَۃً کُلُّھَا فِیی النَّارِ أِلاَّ وَاحِدَۃٍمَنْ کَانَ عَلَی مِثْلِ مَا أَنَا عَلَیہِ الْیَومَ وَاصْحَابِی) ’’میری امت یعنی یہ امت۔ تہتر فرقوں میں تقسیم ہوجائے گی۔ ایک کے سوا سب جہنم میں جائیں گے اور وہ ایک (نجات پانے والا فرقہ) وہ ہے جو اس طریقے پر ہے جس طریقے پر ہوگاجس پر اب میں اور میرے صحابہ ہیں۔‘‘ مجھے یہ حدیث اسی طرح معلوم ہے۔ لیکن ایک دن میں ایک کتاب کا مطالعہ کر رہا تھا اس میں یہی حدیث ذکر کی گئی تھی۔ لیکن آخری الفاظ اس طرح تھے: (کُلُّھُمْ فِیی النَّارِ أِلاَّ وَاحِدۃً) ’’ایک کے سوا سب جہنم میں جائیں گے‘‘ اللہ کی قسم! اس روایت سے مجھے سخت خلجان پیدا ہوا۔ کیا واقعی ایک کے سوا سب فرقے جہنم میں جائیں گے، یا ایک کے سوا سب جنت میں جائیں گے؟ جواب اَلْحَمْدُ للّٰہ وَالصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلٰی رَسُوْلِہِ آلِہِ وَأَصْحَابِہ وَبَعْدُ: تمام روایتوں میں حدیث کے یہی الفاظ ہیں: (کُلُّھُمْ فِی النَّارِ أِلاَّ وَاحِدۃً)