کتاب: فتاوی ابن باز - صفحہ 155
(افْتَرَقَتِ الْیَھُودُ عَلَی أِحْدَی وَسَبْعینَ فِرْقَۃً‘ وَافْتَرَقَتِ النَّصَارَی عَلَی ثِنْتَیْنِ وَسَبْعِینَ فِرْقَۃً وَسَتَفْتَرِقُ ھٰذَا الأُمَّۃُ عَلَی ثَلاَثٍ وَسَبْعِینَ فِرْقَۃً کُلُّھَا فِیی النَّارِ أِلاَّ وَاحِدۃً) ’’یہودی اکہتر فرقوں میں تقسیم ہوگئے، نصاریٰ بہتر فرقوں میں تقسیم ہوگئے اور میری امت تہتر فرقوں میں تقسیم ہوجائے گی۔ ایک کے سوا سب (فرقے) جہنم میں جائیں گے۔‘‘ صحابہ نے عرض کی ’’اے اللہ کے رسول! وہ کون ہے؟ ارشاد فرمایا: (مَنْ کَانَ عَلَی مِثْلِ مَا أَنَا عَلَیہِ الْیَومَ وَاصْحَابِی) ’’ جو اس طریقے پر ہوگاجس پر اب میں اور میرے صحابہ ہیں۔‘‘ [1] اس سے نجات یافتہ فرقہ کی وضاحت ہوگئی۔ یعنی وہ فرقہ ہے جو قولاً، عملاً اور عقیدتاً شریعت پر سختی سے قائم رہے گا اور جو اس حال میں فوت ہوا وہ یقیناً جنتی ہے۔ وَبِاللّٰہِ التَّوْفِیْقُ وَصَلَّی اللّٰہُ عَلٰی نَبِیَّنَا مُحَمَّدٍ وَآلِہٖ وَصَحْبِہٖ وَسَلَّمَ اللجنۃ الدائمۃ ۔ رکن: عبداللہ بن قعود، عبداللہ بن غدیان، نائب صدر: عبدالرزاق عفیفی، صدر عبدالعزیز بن باز ٭٭٭ فتویٰ (۶۲۲۹) نجات یافتہ فرقے کی پہچان سوال آپ نجات یافتہ فرقے کے متعلق کیا فرماتے ہیں! وہ کون ہیں؟ ان کا طریقہ کیا ہے؟ اور ان کا علاقہ کون ساہے؟ اگر حدیث نبوی میں یا علماء کے ارشادات میں اس کی کوئی وضاحت موجود ہے تو بیان فرمادیجئے۔ جواب اَلْحَمْدُ للّٰہ وَالصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلٰی رَسُوْلِہِ آلِہِ وَأَصْحَابِہ وَبَعْدُ: نجات یافتہ فرقہ وہی ہے جو اس طریقہ پر قائم ہو جس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کرام صلی اللہ علیہ وسلم تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی یہی وضاحت فرمائی ہے۔ ان کا طریقہ، کتاب اللہ،سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور وہ علم جس کی بنیاد قرآن وحدیث پر ہو، اس پر عمل کرنا ہے۔ وہ کسی شہر کے ساتھ خاص نہیں۔ وَبِاللّٰہِ التَّوْفِیْقُ وَصَلَّی اللّٰہُ عَلٰی نَبِیَّنَا مُحَمَّدٍ وَآلِہٖ وَصَحْبِہٖ وَسَلَّمَ اللجنۃ الدائمۃ ۔ رکن: عبداللہ بن قعود، عبداللہ بن غدیان، نائب صدر: عبدالرزاق عفیفی، صدر عبدالعزیز بن باز ٭٭٭ فتویٰ (۶۸۰۰) اللہ تک پہنچنے کا راستہ ایک ہے سوال موجودہ مذہبی جماعتو ں کے ظہور کی کیا وضاحت ہوسکتی ہے؟ جب کہ ہمیں معلوم ہے کہ ہر گروہ کا اپنا اپنادعوت کا طریقہ ہے اور ہر ایک کی کوشش ہے کہ اقتدار اسے حاصل ہو۔ کیا یہ سب فرقے یا ان میں سے بعض فرقے اور جماعتیں [1] مسند احمد ج:۲، ص:۳۳۲، ص:۱۲۰، ۱۴۵۔ سنن ابی داؤد حدیث نمبر: ۴۵۹۶، جامع ترمذی حدیث نمبر: ۲۶۴۲، سنن ابن ماجہ حدیث نمبر: ۴۰۲، مستدرک حاکم ج:۱، ص:۱۲۸، الشریعہ مصنفہ آجری حدیث نمبر: ۲۵۔