کتاب: فتاوی ابن باز - صفحہ 152
معلوم ہے۔ یا قطعی اجماع کا انکار کرے، یا ایسی صریح نصوص کی تاویل کرے جن میں تاویل کی گنجائش ہی نہیں اور جب اس پر واضح کردیا جائے کہ (اس کا یہ عمل کفرہے) تو بھی اسے چھوڑ کر صحیح راستہ اختیار نہ کرے (تو ایسے شخص کو کافر قراردیا جائے گا)۔ امام الدعوۃ شیخ محمد بن الوہاب[1] نے اہل سنت والجماعت کا طریقہ اختیار کیا اور انہی کے اصولوں پر چلے۔ انہوں نے اہل قبلہ میں سے کسی فرد یاجماعت کو کسی گناہ،بدعت یا تاویل کی وجہ سے نام لے کر کافر نہیں کہا الا یہ کہ اس کے کفر کی واضح دلیل موجود ہے اور یہ ثابت ہوچکا ہے کہ اسے حق پہنچایا اور سمجھا جاچکا ہے۔ حکومت سعودیہ (اللہ ا سکی حفاظت فرمائے اور توفیق سے نوازے) اپنی رعیت کے ساتھ برتاؤ کرنے اور ان کے بارے میں کوئی فیصلہ کرنے میں اپنے موقف سے نہیں ہٹی۔ دوسرے ممالک کے مسلمانوں، خصوصاً حج اور عمرہ کی ادائیگی کے لئے آنے والوں کے متعلق اس کی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ وہ سب مسلمانوں کے ساتھ حسن ظن رکھتی ہے، انہیں اپنا دینی بھائی سمجھتی ہے، ان تمام کانوں میں ان سے تعاون کرتی ہے جن سے انہیں قوت حاصل ہو۔ ان کے حقوق کا خیال رکھتی ہے، دور سے آنے والوں کا خوشی سے استقبال کرتی ہے، پوری محبت اور توجہ سے ہر وہ کام کرتی ہے جس سے انہیں حج کے ارکان ادا کرنے میں آسانی ہو۔جس نے بھی ان حالات کو دیکھا بھالا ہے اور اس کے معاملات سے واقف ہوا ہے اس سے یہ سب چیزیں مخفی نہیں اور اسے معلوم ہے کہ وہ مسلمانوں کا عام اصلاح کے لئے اور بیت اللہ کی زیارت کے لئے آنے والے حاجیوں کو زیادہ سے زیادہ راحت اور آرام پہنچانے کے لئے کس قدر کوششیں کر رہی ہے۔ اس لئے وہ مسلمانوں کے مختلف فرقوں کو ان کے خفیہ عقائد کی کھوج لگائے بغیر، بیت اللہ کی زیارت کی اجازت دے دیتی ہے۔ دل کی کیفیت کا کھوج لگانے کی کوشش کرنے کی بجائے ظاہر پر عمل کرتی ہے اور دلوں کے رازوں کامعاملہ اللہ کے سپر دکرتی ہے۔ لیکن کسی شخص یا کسی گروہ کا کفر واضح ہوجائے اور ا سلامی ممالک کے محقق علماء کے نزدیک ان کاکفر ثابت ہوچکا ہے، تو پھراسے لازماً ایسے شخص یا جماعت کو جس کاکفر ثابت ہوچکا ہو حج اور عمرہ کی ادائیگی سے روکنا ہی پڑتا ہے۔ تاکہ دل میں کفر کی نجاست رکھنے والو ں کو بیت اللہ کے قریب آنے سے روکا جائے اور ا للہ تعالیٰ کے اس حکم پر عمل کیا جائے۔ ﴿یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اِنَّمَا الْمُشْرِکُوْنَ نَجَسٌ فَلَا یَقْرَبُوا الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ بَعْدَ عَامِہِمْ ہٰذَا ﴾ (التوبہ۹؍۲۸) ’’اے مومنو! یقیناً مشرکین پلید ہیں، لہٰذا وہ اس سال (یعنی ۹ھ) کے بعد مسجد حرام کے قریب نہ آئیں۔‘‘ اور فرمایا: ﴿وَّ طَہِّرْبَیْتِیَ لِلطَّآئِفِیْنَ وَ الْقَآئِمِیْنَ وَ الرُّکَّعِ السُّجُوْدِ﴾ (الحج۲۲؍۲۶) ’’اور میرے گھر کو طواف کرنے والوں، قیام کرنے والوں، رکوع کرنے والوں اور سجدے کرنے والوں کیلئے پاک صاف رکھنا۔‘‘ مذکورہ بالا وضاحت سے اس عظیم مسئلہ کی اہمیت خوب ظاہر ہوگئی جس کی طرف اپنے زمانے کے امام دعوت شیح محمد بن عبدالوہاب رحمہ اللہ نے اشارہ کیا ہے اور جس کی وضاحت سوال میں طلب کی گئی ہے۔ اس سے یہ بھی واضح ہوگیا ہے کہ آپ رحمہ اللہ صحیح منہج پر کاربند تھے کیونکہ آپ نے اہل سنت والجماعت کے اصولوں کی پابندی کی ہے اور یہ بھی معلوم ہوگیا کہ حکومت سعودیہ مسلمانوں کے ساتھ روارکھے جانے اولے طرز عمل میں صحیح راستے سے نہیں ہٹی۔ بلکہ وہ اہل سنت والجماعت کے [1]