کتاب: فتاوی ابن باز - صفحہ 147
’’اور یہ میرا راستہ ہے سیدھا، تو اس کی پیروری کرو اور دوسری راہوں کی پیروی نہ کرو ورنہ وہ تمہیں اس کی راہ سے جدا کردیں گی۔‘‘ اور جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (سَتَفْتَرِقُ أُمَّتِیی عَلَی ثَلاَثٍ وَسَبْعِینَ فِرْقَۃً کُلُّھَا فِیی النَّارِ أِلاَّ وَاحِدَۃً۔قِیلَ: مَنْ ھِییَ یَا رَسُولَ اللّٰہِ؟ قَالَ: مَنْ کَانَ عَلَی مِثْلِ مَا أَنَا عَلَیہِ وَأَصْحَابِیی) ’’میری امت تہتر فرقوں میں بٹ جائے گی‘ وہ سب فرقے جہنم میں جائیں گے سوئے ایک کے۔ عرض کی گئی ’’یا رسول اللہ وہ کون سا ہے؟‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جو لوگ اس چیز پر قائم ہوں گے جس پر میں اور میرے صحابہ ہیں۔‘‘ [1] اس لئے طریقت‘ شریعت ہی میں شامل ہے۔ اس کے خلاف جو بھی طریقے ہیں جیسے صوفیانہ طریقے، تیجانیہ،تقشبندیہ،قادریہ وغیرہ۔ یہ سب بعد میں بننے والے طریقے ہیں، ان کو صحیح تسلیم کرنا یا ان پر عمل کرنا جائز نہیں۔ وَبِاللّٰہِ التَّوْفِیْقُ وَصَلَّی اللّٰہُ عَلٰی نَبِیَّنَا مُحَمَّدٍ وَآلِہٖ وَصَحْبِہٖ وَسَلَّمَ اللجنۃ الدائمۃ ۔ رکن: عبداللہ بن قعود، عبداللہ بن غدیان، نائب صدر: عبدالرزاق عفیفی، صدر عبدالعزیز بن باز ٭٭٭ فتویٰ (۸۳۰) ناجی فرقہ کون ساہے؟ سوال میں نے ایک حدیث شریف پڑھی ہے جو شیخ ا لاسلام محمد بن عبدالوہاب نے اپنی کتاب ’’مختصر سیرۃ الرسول صلی اللہ علیہ وسلم میں ذکر کی ہے۔ وہ یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (سَتَفْتَرِقُ أُمَّتِیی عَلَی ثَلاَثٍ وَسَبْعِینَ فِرْقَۃً کُلُّھَا فِیی النَّارِ أِلاَّ وَاحِدَۃً۔) ’’عنقریب میری امت تہتر فرقو ں میں بٹ جائے گی‘ وہ سب جہنم میں جائیں گے سوائے ایک کے۔‘‘ سائل اس مسئلہ کے متعلق معلوم کرنا چاہتا ہے جس کے متعلق امام محمد بن عبدالوہاب نے مذکورہ بالا کتاب میں یہ الفاظ لکھے ہیں: ’’یہ مسئلہ عظیم ترین مسائل میں سے ہے، جس نے اس مسئلہ کو سمجھ لیا ہے وہی فقیہ ہے اور جس نے عمل کییا وہ (کماحقہ) مسلم ہے۔ ہم اللہ کریم منان سے التجا کرتے ہیں کہ وہ اپنے فضل سے ہمیں اس کو سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق بخشے۔‘‘ سائل مندرجہ ذیل سوالات کا جواب معلوم کرناچاہتا ہے جو اس حدیث کے متعلق پیدا ہوتے ہیں: (۱) وہ کون سا نجات پانے والا گروہ ہے جس کی طرف اس حدیث میں اشارہ کیا گیا ہے؟ (۲) کیا اہل حدیث کے علاوہ دوسرے گروہ مثلاً شیعہ، شافعی، حنفی، تیجانی وغیرہ ان بہتر (۷۲) فرقوں میں شامل ہیں جن کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تصریح فرمائی ہے کہ وہ جہنم میں جائیں گے؟ (۳) جب ایک کے سوا یہ تمام جہنم میں جانے والے ہیں پھر آپ لوگ انہیں بیت اللہ شریف کی زیارت کی اجازت کیوں دیتے ہیں؟ کیا امام محمد بن عبدالوہاب غلطی پر تھے یا آپ سیدھے رستے سے ہٹ چکے ہیں؟ [1] جامع ترمذی حدیث نمبر: ۲۶۴۳۔ طبرانی صغیر نمبر ۷۲۴ عقیلی: الصنعفاء ۲؍۲۶۲