کتاب: فتاوی ابن باز - صفحہ 145
سلف صالحین یعنی صحابہ کرام‘ تابعین عظام کے طریق کار پر عمل پیرا ہے۔ وَبِاللّٰہِ التَّوْفِیْقُ وَصَلَّی اللّٰہُ عَلٰی نَبِیَّنَا مُحَمَّدٍ وَآلِہٖ وَصَحْبِہٖ وَسَلَّمَ اللجنۃ الدائمۃ ۔ رکن: عبداللہ بن قعود، عبداللہ بن غدیان، نائب صدر: عبدالرزاق عفیفی، صدر عبدالعزیز بن باز ٭٭٭ فتویٰ (۵۶۲۳) صحیح راستہ کون سا ہے؟ سوال میں نے موجودہ حالات میں تبدیلی لانے کے طریقوں کے متعلق کافی مطالعہ کیا ہے۔ سچی بات تو یہ ہے کہ ہر ایک کے پاس اپنے موقف کے حق میں دلائل موجود ہیں۔ لیکن میں اپنے محدود علم کی وجہ سے یہ نہیں جان سکا کہ موجودہ زمانہ کی مناسبت سے کونسا طریقہ زیادہ بہتر ہے، جب کہ صورت حال یہ ہے کہ ہم دین سے مکمل طور پر دور جاچکے ہیں، ہمارے پاس محض کچھ رسم ورواج اور تہوار باقی ہیں جن سے اللہ تعالیٰ اور اسکے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خوشنودی حاصل نہیں ہوسکتی۔ جواب اَلْحَمْدُ للّٰہ وَالصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلٰی رَسُوْلِہِ آلِہِ وَأَصْحَابِہ وَبَعْدُ: جنت تک وہی راستہ پہنچاسکتا ہے جس پر محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے بعد آنے والے مسلمان تھے۔ جو اس راستے پر چلے گا نجات پائے گا اور جو اس سے ادھر ادھر ہوگا ہلاک ہوجائے گا۔ وَبِاللّٰہِ التَّوْفِیْقُ وَصَلَّی اللّٰہُ عَلٰی نَبِیَّنَا مُحَمَّدٍ وَآلِہٖ وَصَحْبِہٖ وَسَلَّمَ اللجنۃ الدائمۃ ۔ رکن: عبداللہ بن قعود، عبداللہ بن غدیان، نائب صدر: عبدالرزاق عفیفی، صدر عبدالعزیز بن باز ٭٭٭ فتویٰ (۵۸۴۵) وطنیت اور سیاست کا حکم سوال کیا کسی انسان کیلئے یا مومن کیلئے یہ کہنا حرام ہے کہ (أنا وطنی) ’’میں وطن پرست ہوں۔‘‘ [1] کیا کسی انسان کیلئے داخلی یاخارجی سیاست پر بات کرنا حرا م ہے؟ جواب اَلْحَمْدُ للّٰہ وَالصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلٰی رَسُوْلِہِ آلِہِ وَأَصْحَابِہ وَبَعْدُ: مسلمان کیلئے فخر کی سب سے بڑی بات اور اس کا بلند ترین مقام یہ ہے کہ وہ اسلام کی طرف منسوب ہو اور دین کی تائید ونصرت اور اعلائے کلمۃ اللہ کے لئے فی سبیل اللہ جہاد کرے۔ مسلمان کو کہنا چاہئے: ’’میں مسلم ہوں‘‘ اس سے اس کی شان اور درجہ زیادہ بلند ہوتا ہے۔ دین اسلام اور اخوت ا سلامی ہی سے اللہ تعالیٰ مسلمانوں میں اتحاد پیدا فرمائے گا۔ وطنیت کے نعرے اور تخریب اور مسلمانوں کے باہمی افتراق کا ذریعہ ہیں، جب کہ اس سے مقصود دوسرے ممالک کے مسلمانوں پر اپنی برتری کا اظہار ہو۔ اگر محض تعارف کیلئے وطن کا ذکر کیا جائے، مقصد یہ ہو کہ میں فلاں ملک کا باشندہ ہوں دوسرے کسی ملک کا نہیں، تو اس میں کوئی حرج نہیں۔ فضیلۃ الشیخ عبدالعزیز بن باز مدظلہ نے قومیت کے متعلق ایک رسالہ بھی تصنیف [1] ’’وطن پرست،، سے لغوی معنی ’’وطن کا پجاری،، مراد نہیں، بلکہ وہ مفہوم مراد ہے جو عرف عام میں سمجھا جاتا ہے۔ یعنی اپنے ملک کو زیادہ اہمیت دینے والا، اپنے وطن اور اہل وطن کے فائدہ کے لئے بڑھ چڑھ کر کام کرنے والا۔