کتاب: فتاوی ابن باز - صفحہ 140
الفرقۃ الناجیۃ اسلام کافرقوں اور پارٹیوں کے متعلق نظریہ سوال پارٹیوں کے متعلق اسلام کا کیا فیصلہ ہے؟ کیا اسلام میں اس قسم کی پارٹیوں بنانا جائز ہے جیسے حزب التحریر (آزادی کی پارٹی یالبریشن فرنٹ)‘ الاخوان المسلمون کی پارٹی وغیرہ۔ جواب اَلْحَمْدُ للّٰہ وَالصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلٰی رَسُوْلِہِ آلِہِ وَأَصْحَابِہ وَبَعْدُ: مسلمانو ں کیلئے جائز نہیں کہ دین میں ایسے فرقے اور پارٹیا ں بنائی جائیں جو ایک دوسرے کو برا بھلا کہتی رہیں اور ایک دوسرے کو قتل کرتی رہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اس افتراق سے منع فرمایا ہے۔ اس افتراق کو پیدا کرنے والے اور اس کے پیچھے چلنے والے کی مذمت کی ہے اور ایسی حرکت کرنے والوں کو عذاب عظیم سے ڈرایا ہے نیز اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے بیزاری کا اظہا رفرمایا ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے: ﴿وَ اعْتَصِمُوْا بِحَبْلِ اللّٰہِ جَمِیْعًا وَّ لَا تَفَرَّقُوْا وَ اذْکُرُوْا نِعْمَتَ اللّٰہِ عَلَیْکُمْ اِذْ کُنْتُمْ اَعْدَآئً فَاَلَّفَ بَیْنَ قُلُوْبِکُمْ فَاَصْبَحْتُمْ بِنِعْمَتِہٖٓ اِخْوَانًا وَ کُنْتُمْ عَلٰی شَفَا حُفْرَۃٍ مِّنَ النَّارِ فَاَنْقَذَکُمْ مِّنْہَا کَذٰلِکَ یُبَیِّنُ اللّٰہُ لَکُمْ اٰیٰتِہٖ لَعَلَّکُمْ تَہْتَدُوْنَ ٭وَلْتَکُنْ مِّنْکُمْ اُمَّۃٌ یَّدْعُوْنَ اِلَی الْخَیْرِ وَ یَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَ یَنْہَوْنَ عَنِ الْمُنْکَرِ وَ اُولٰٓئِکَ ہُمُالْمُفْلِحُوْنَ ٭وَ لَا تَکُوْنُوْا کَالَّذِیْنَ تَفَرَّقُوْا وَ اخْتَلَفُوْا مِنْ بَعْدِ مَا جَآئَ ہُمُ الْبَیِّنٰتُ وَ اُولٰٓئِکَ لَہُمْ عَذَابٌ عَظِیْمٌ﴾ (آل عمران۳؍۱۰۳۔۱۰۵) ’’تم سب مل کر اللہ کی رسی کو مظبوطی سے پکڑ لو اور متفرق نہ ہوجاؤ اور اللہ تعالیٰ کی اس وقت کی نعمت کو یاد کرو جب تم ایک دوسرے کے دشمن تھے تو اس نے تمہارے دلو ں میں الفت ڈال دی پس تم اسکی مہربانی سے بھائی بھائی ہوگئے اور تم آگ کے گڑھے کے کنارے پر پہنچ چکے تھے تو اس نے تمہیں بچا لیا اللہ تعالیٰ اسی طرح تمہارے لئے اپنی نشانیاں بیان کرتا ہے تاکہ تم راہ پاؤ۔ تم میں سے ایک جماعت ایسی ہونی چاہئے جو بھلائی کی طرف بلائے اور نیک کاموں کا حک کرے اور برے کاموں سے روکے اور یہی لوگ فلاح ونجات پانے والے ہیں اور ان لوگوں کی طرح نہ ہوجانا جو متفرق ہوگئے اور انہوں نے اختلاف کیا، اس چیز کے بعد کہ ان کے پاس واضح ہدایات آچکی تھیں۔ ان ہی لوگوں کے لئے بڑا عذاب ہے۔‘‘ اور فرمایا: ﴿اِنَّ الَّذِیْنَ فَرَّقُوْادِیْنَمُ وَکَانُوْ اشِیَعًا لَّسْتَ مِنْہُمْ فِیْ شَیْئٍ اِنَّمَآ اَمْرُہُمْ اِلَی اللّٰہِ ثُمَّ یُنَبِّمْ بِمَا کَانُوْا