کتاب: فتاوی ابن باز - صفحہ 134
فتویٰ(۷۶۵۴) شکوک وشبہات اور وساوس کا حل سوال گزارش ہے کہ میرے سوالات کو اچھی طرح سمجھنے کیلئے میرا یہ خط آخر تک ضرورپڑھئے۔کوئی شخص نعوذ باللہ مرتد کب ہوتا ہے؟ ہوسکتا ہے میرا یہ سوال عجیب محسوس ہو، لیکن اس نے مجھے سخت پریشان کررکھا ہے، بسا اوقات مجھے اپنے روزمرہ کے کاموں کے متعلق یوں لگتا ہے کہ یہ حرکرتیں مرتد ہونے پر دلالت کرتی ہیں۔ میں آپ کو یہ بتانا چاہتا ہوں کہ میں الحمد للہ دل سے پوری طرح ایمان پر قائم ہوں۔ لیکن جس طرح میں نے بتایا ہے کہ میں جو بھی کام کرتا ہوں تو کوئی بھی کام کرنے سے پہلے مجھے شوک وشبہات گھیر لیتے ہیں۔ مثلاً میں کسی شخص سے یا چند اشخاص سے بات کر رہا ہوں (اسی اثناء میں) ایک لفظ بولنا چاہتا ہوں، لیکن اس کے بولنے سے پہلے ہی مجھے یہ شک پڑجاتا ہے کہ کہیں یہ کفریہ لفظ نہ ہو، چنانچہ میں لکنت کا شکار ہوجاتا ہوں، بسا اوقات مجھے یہ غور کرنے کا موقع ہی نہیں ملتا کہ یہ لفظ زبان سے نکالوں یا نہ نکالوں۔ چونکہ بات جاتی ہوتی ہے، اس لئے یہ لفظ زبردستی زبان سے نکل جاتا ہے حالانکہ میرا ارادہ اس سے نعوذباللہ کفرکا نہیں ہوتا، چنانچہ مجھے وسوسے آنے لگتے ہیں کیا میں اس وقت مرتدکے حکم میں ہوتا ہوں۔ نعوذ باللہ من ذالک وسوسہ میں اضافہ ا س طرح ہوتا ہے کہ اس لفظ کے بولنے سے پہلے مجھے ا سکا احساس تھا، توکیا میرا حکم اس شخص کا ساہوگا جسے کفر پر مجبور کردیا گیا ہو؟ کیونکہ لوگوں کی نظریں مجھ پر جمی ہوتی ہیں اور وہ میری بات پوری ہونے کا انتظار کررہے ہوتے ہیں۔ پھر میں دیکھتا ہوں کہ یہ تو بہت کمزور دلیل ہے، چنانچہ میرے شکوک میں اور اضافہ ہوجاتا ہے۔ تو بات چیت کے دوران ان لمحات میں میں کیاکروں؟ یہ ایک عجیب احساس ہے جو مجھے گھیر لیتا ہے تو میری نیند حرام ہوجاتی ہے۔ جب میں اس چیز کو نظر انداز کرنے کی کوشش کرتا ہوں تو ایسا کرنے میں کامیاب نہیں ہوتا کیونکہ یہ شکوک دوبارہ شروع ہوجاتے ہیں۔ کیا اس کے بغیر میری نماز صحیح نہیں ہوگی؟ کیا میرے سابقہ اعمال ضائع ہوجائیں گے جس طرح مرتد کے ہوجاتے ہیں؟ مثلاً کیا مجھے دوبارہ فریضہ حج اداکرنا پڑے گا؟ اس کے علاوہ یہ بھی ہوتا ہے کہ جب می غصے میں ہوتا ہوں تو میرا دل بعض خاص خیالات کی طرف شدت سے مائل ہوتا ہے (میں یہ خیالات بیان نہیں کرسکتا)‘ لیکن میں جلد ہی اپنے اعصاب پر قابو پالیتا ہوں اور ان خیالات سے نجات پانے کی کوشش کرتاہوں تو کیا یہ بھی نعوذ باللہ کفر شمار ہوگا؟میں یہ بھی بتانا چاہتا ہوں کہ میں نے ایک حدیث پڑھی ہے جس کامفہوم یہ ہے کہ ’’اگر کوئی مسلمان اپنے بھائی کو کافر کہ توان دونوں میں ایک کافر ہوجاتاہے‘‘ کیا اس کا یہ مطلب ہے کہ جب ایک مسلمان دوسرے آدمی کو کافر کہے تو اس کا حکم مرتد والا حکم ہوجاتا ہے؟ اور اگر میں محسوس کروں کہ فلاں شخص کافر ہے اور زبان سے نہ کہوں تو اس کا کیا حکم ہے؟ میں یہ بھی پوچھنا چاہتا ہوں کہ اگر کوئی شخص بعض خرافات پر یقین رکھے مثلاً تیرہ (۱۳) کے ہندسے کو منحوس سمجھے، یا زمین پر ناخن وغیرہ پھینکنے کو منحوس سمجھے تو کیا یہ بھی کفر ہے؟ واضح رہے کہ ان خرافات پر یقین رکھنے والا پوری طرح مسلمان ہے اور جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تمام تعلیمات پر ایمان رکھتا ہے اور جب یہ شحص توبہ کرلے اور ان خرافات پر یقین کرنا چھوڑ دے تو کیاوہ اسلام میں نئے سرے سے داخل ہونے والے کی طرح ہوگا۔ یعنی اس پر غسل وغیرہ واجب ہوگا؟ پھر میں یہ بھی پوچھنا چاہتا ہوں کہ میرے وساوس اور شکوک وشبہات جتنے بھی ہوں، کیا یہ گناہ شمار ہوں گے ان پر میرا مؤاخذہ ہوگا یا نہیں؟ میں کبھی کبھار ان سے نجات پانے کی کوشش میں ان کے بارے میں گھنٹا سوچتا رہتاہوں۔ اب میں خط کو مزید طول