کتاب: فتاوی ابن باز - صفحہ 123
اللجنۃ الدائمۃ ۔ رکن: عبداللہ بن قعود، عبداللہ بن غدیان، نائب صدر: عبدالرزاق عفیفی، صدر عبدالعزیز بن باز ٭٭٭ فتویٰ (۷۳۵۰) کیا چودہ صدیاں گزرنے پر قیامت آئے گی؟ بعض علماء سے سنا ہے کہ حدیث میں یہ خبر دی گئی ہے کہ چودہ صدیاں پوری ہونے کے کچھ عرصہ بعد قیامت آجائے گی۔ کیا یہ حدیث ہے؟ واضح رہے کہ چودہ صدیاں تو گزر چکی ہیں اور یہ ’’کچھ عرصہ‘‘ سے کیا مراد ہے؟ جواب اَلْحَمْدُ للّٰہ وَالصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلٰی رَسُوْلِہِ آلِہِ وَأَصْحَابِہ وَبَعْدُ: قیامت قائم ہونے کا تعین کے ساتھ اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ کسی صحیح حدیث میں ایسی کوئی چیز مذکور نہیں جس سے سوال میں مذکور خیال کی تائید ہوتی ہو۔ وَبِاللّٰہِ التَّوْفِیْقُ وَصَلَّی اللّٰہُ عَلٰی نَبِیَّنَا مُحَمَّدٍ وَآلِہٖ وَصَحْبِہٖ وَسَلَّمَ اللجنۃ الدائمۃ ۔ رکن: عبداللہ بن قعود، عبداللہ بن غدیان، نائب صدر: عبدالرزاق عفیفی، صدر عبدالعزیز بن باز ٭٭٭ فتویٰ(۳۵۰۲) علم غیب اللہ کا خاصہ ہے سوال اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: ﴿عٰلِمُ الْغَیْبِ فَلَا یُظْہِرُ عَلٰی غَیْبِہِ اَحَدًا٭ اِِلَّا مَنْ ارْتَضَی مِنْ رَّسُوْلٍ ﴾ (الجن۷۲؍۲۶۔۲۷) تو کیا رسول کا امتی ولی بھی اس علم غیب میں رسول کے تابع ہے؟ جواب اَلْحَمْدُ للّٰہ وَالصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلٰی رَسُوْلِہِ آلِہِ وَأَصْحَابِہ وَبَعْدُ: اللہ تعالیٰ نے یہ فیصلہ فرمایا کہ غیبی امور کا علم اس کے ساتھ خاص ہے: ارشاد ہے: ﴿قُلْ لَّا یَعْلَمُ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ الْغَیْبَ اِلَّا اللّٰہُ َ﴾ (النمل ۲۷؍۶۵) ’’(اے پیغمبر!) فرمادیجئے اللہ کے سوا آسمانو ں اور زمین میں کوئی بھی غیب نہیں جانتا۔ ‘‘ اس سے اللہ تعالیٰ نے صرف رسولوں کو مستثنیٰ فرمایا ہے یعنی وہ جس رسول کو چاہے، غیب کی جو بات چاہے بتادے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے: ﴿عٰلِمُ الْغَیْبِ فَلَا یُظْہِرُ عَلٰی غَیْبِہِ اَحَدًا٭ اِِلَّا مَنْ ارْتَضَی مِنْ رَّسُوْلٍ فَاِِنَّہٗ یَسْلُکُ مِنْ بَیْنِ یَدَیْہِ وَمِنْ خَلْفِہِ رَصَدًا ﴾ (الجن۷۲؍۲۶۔۲۷) ’’ وہ غیب جاننے والا ہے، پس وہ اپنے غیب پر کسی کو مطلع نہیں کرتا، مگر جس رسول کو (کچھ بتانا) پسند کرے تو اس (تک پہننے والے پیغام) کے آگے پیچھے نگران روانہ کرتاہے۔‘‘ لہٰذا نبیوں اور رسولوں کی امتوں میں سے جو شخص بھی یہ دعویٰ کرے کہ وہ غیب جانتا ہے، وہ جھوٹا ہے۔ اور جوشخص یہ عقیدہ رکھے یا اس طرح کا عمل کرے جس سے معلوم ہو کہ اس کے خیال میں کسی رسول کا کوئی پیروکار اور کوئی ولی یا بزرگ غیب جانتا ہے تو وہ بھی غلطی پر ہے اور جھوٹا ہے کیونکہ وہ قرآن میں نازل ہونے والی آیات اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ثابت