کتاب: فتاوی ابن باز - صفحہ 113
لا یعلم الغیب الا اللّٰہ اللہ ہی غیب دان ہے فتویٰ (۱۸۹) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حاضرو ناظر اور عالم الغیب ہونے کی بحث سوال کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم حاضروناضر ہیں؟ یعنی کیا وہ غیب جانتے ہیں کہ ان کے لئے حاضر اور غائب سب برابر ہیں؟ جواب اَلْحَمْدُ للّٰہ وَالصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلٰی رَسُوْلِہِ آلِہِ وَأَصْحَابِہ وَبَعْدُ: غیب کے معاملات کے بارے میں اصولی اور بنیادی بات یہی ہے کہ ان کا علم اللہ کا خاصہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: ﴿وَ عِنْدَہٗ مَفَاتِحُ الْغَیْبِ لَا یَعْلَمُہَآ اِلَّا ہُوَ وَ یَعْلَمُ مَا فِی الْبَرِّ وَ الْبَحْرِ وَ مَا تَسْقُطُ مِنْ وَّ رَقَۃٍ اِلَّا یَعْلَمُہَا وَ لَا حَبَّۃٍ فِیْ ظُلُمٰتِ الْاَرْضِ وَ لَا رَطْبٍ وَّ لَا یَابِسٍ اِلَّا فِیْ کِتٰبٍ مُّبِیْن﴾ (الانعام۶؍۵۹) ’’غیب کی کنجیاں اس کے پاس ہیں، انہیں صرف وہی جانتا ہے اور زمین کی تارکیوں میں جو بھی دانہ ہے اور جو بھی خشک وتر ہے وہ کتاب مبین میں موجود ہے۔‘‘ نیز فرمایا: ﴿قُلْ لَّا یَعْلَمُ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ الْغَیْبَ اِلَّا اللّٰہُ وَ مَا یَشْعُرُوْنَ اَیَّانَ یُبَعَثُوْنَ﴾ (النمل ۲۷؍۶۵) ’’(اے پیغمبر!) فرمادیجئے اللہ کے سوا آسمانو ں اور زمین میں کوئی بھی غیب نہیں جانتا۔ وہ یہ شعور نہیں رکھتے کہ کب اٹھائے جائیں گے۔‘‘ لیکن اللہ تعالیٰ اپنے رسولوں میں سے جسے چاہتا ہے؟ غیب کی جوبات چاہتا ہے بتا دیتا ہے۔ ارشاد ہے: ﴿عٰلِمُ الْغَیْبِ فَلَا یُظْہِرُ عَلٰی غَیْبِہِ اَحَدًا٭اِِلَّا مَنْ ارْتَضَی مِنْ رَّسُوْلٍ فَاِِنَّہٗ یَسْلُکُ مِنْ بَیْنِ یَدَیْہِ وَمِنْ خَلْفِہِ رَصَدًا﴾ (الجن۷۲؍۲۶۔۲۷) ’’وہ غیب جاننے والا ہے بس اپنے غیب پر کسی کو مطلع نہیں کرتا، مگر جس رسول کو پسند فرمائے، تو اس (تک پہنچنے والے پیغام) کے آگے پیچھے نگران روانہ کرتاہے۔‘‘ مزید فرمایا: ﴿قُلْ مَا کُنْتُ بِدْعًا مِّنْ الرُّسُلِ وَمَا اَدْرِی مَا یُفْعَلُ بِی وَلَا بِکُمْ اِِنْ اَتَّبِعُ اِِلَّا مَا یُوحَی اِِلَیَّ وَمَا اَنَا اِِلَّا نَذِیرٌ مُّبِیْنٌ﴾ (الاحقاف۴۶؍۹) ’’(اے پیغمبر!) کہہ دیجئے میں کوئی انوکھا رسول نہیں ہوں اور میں نہیں جانتا کہ میرے ساتھ کیا سلوک کیا جائے گا اور نہ تمہارے ساتھ (ہونے والے معاملات سے واقف ہوں) میں تو صرف اس چیز کی پیروی کرتاہوں جو میری