کتاب: فتاوی ابن باز(جلد 2) - صفحہ 107
٭٭٭ فتویٰ (۷۷۱۷) ’’یا سیدی‘‘ کے الفاظ استعمال کرنا سوال کیا فوج یا پولیس کے افسر کو اس طرح کہنا جائز ہے: ’’حاضریا سیدی‘‘ (میرے آقا! میں حاضر ہوں) جواب اَلْحَمْدُ للّٰہ وَالصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلٰی رَسُوْلِہِ آلِہِ وَأَصْحَابِہ وَبَعْدُ: یوں کہنا جائز ہے ’’حاضر ‘‘ لیکن (یَا سَیِّدِی) کہنا جائز نہیں، جب بعض صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہاتھا: (أَنْتَ سَیِّدُنَا) (آپ ہمارے آقا ہیں) تو آنحضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا: (اَلسَّیَّدُاللّٰہُ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی) (آقا تو اللہ تبارک وتعالیٰ ہی ہے) یہ حدیث امام ابو داؤد نے صحیح سند سے روایت کی ہے۔[1] وَبِاللّٰہِ التَّوْفِیْقُ وَصَلَّی اللّٰہُ عَلٰی نَبِیَّنَا مُحَمَّدٍ وَآلِہٖ وَصَحْبِہٖ وَسَلَّمَ اللجنۃ الدائمۃ ۔ رکن: عبداللہ بن قعود، عبداللہ بن غدیان، نائب صدر: عبدالرزاق عفیفی، صدر عبدالعزیز بن باز ٭٭٭ فتویٰ(۹۲۳۴) بے ادبی کا احتمال رکھنے والے الفاظ استعمال کرنا سوال میں ایک ہائی سکول میں استاذ ہوں (کورس میں مقرر) توحید کی کتاب میں ایک عبارت نظر سے گزری‘ جو مجھے صحیح معلوم نہیں ہوئی۔ آپ سے گزارش ہے کہ بیان فرمائیں کہ یہ عبارت کس حد تک صحیح ہے اور کیا یہ رب العالمین کے شان کے منافی تو نہیں؟ ثانوی کی دوسری کلاس میں مقرر محمد قطب کی تصنیف کردہ کتاب التوحید میں صفحہ ۲۳ سطر ۱۷میں یہ عبارت پائی جاتی ہے کہ ’’ جب اللہ کی طرف سے رسول آکر کہتا ہے۔ ﴿یٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰہَ مَا لَکُمْ مِّنْ اِلٰہٍ غَیْرُہٗ﴾ (الاعراف۷؍۵۹) (اے میری قوم! اللہ کی عبادت کرو، اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں) اور یہ بات ہر رسول نے اپنی قوم سے کہی ہے تو وہ رسول حقیقت میں اللہ کا چھینا ہوا حق حقدار کو واپس کرنے کا اعلان کررہا ہوتا ہے۔ یعنی انسان کے لئے قانون بنانے کاحق‘ حلال اور حرام‘ جائز اور ناجائز قرار دینے کا حق۔‘‘ ثانوی کی تیسری کلاس کی کتاب‘ جو اسی منصف کی تحریر کردہ ہے، اس میں صفحہ: ۸۲ میں آخری تین سطروں میں یہی بات کہی گئی ہے کہ لا الہ الا اللہ کا مطلب اقتدار کا چھینا ہوا حق‘ جس سے لوگوں کو غلام بنایا جاتا ہے، اس کے حقیقی مالک یعنی اللہ تبارک وتعالیٰ کی طرف لوٹانا ہے۔ میں نے تو اس عبارت کے متعلق خاموشی اختیار کی ہے اور اسے جائز نا جائز نہیں کہا۔ آپ سے گزارش ہے کہ وضاحت فرمائیں۔ جواب اَلْحَمْدُ للّٰہ وَالصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلٰی رَسُوْلِہِ آلِہِ وَأَصْحَابِہ وَبَعْدُ: معنی ومفہوم کے لحاظ سے آپ کی ذکر کردہ عبارت میں کوئی حرج محسوس نہیں ہوتا۔ لیکن کلام کے اسلوب میں اللہ کی شان
[1] مسند احمد ج:۴، ص:۲۴، ۲۵۔ سنن ابی داؤد حدیث نمبر: ۴۸۰۶۔ ابن السنی، عمل الیوم واللیلہ حدیث نمبر: ۳۸۷۔ الادب المفرد امام بخاری حدیث نمبر: ۲۱۱۔ الاسماء والصفات امام بیہقی حدیث نمبر: ۲۲ عمل الیوم واللیلہ امام نسائی حدیث نمبر: ۲۴۵، ۲۴۶، ۲۴۷