کتاب: فتاوی ابن باز(جلد 1) - صفحہ 264
لانے سے عاجز بنا دیا ۔ اسے اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف وحی کیا۔ روح الامین جبرئیل علیہ السلام اس وحی کولے کر آپ پر اترے۔ اس کتاب میں اللہ تعالیٰ نے پاکیزہ طریقے اور پہلے لوگوں کے بہت سے علوم وحی بیان فرمائے۔ نیز اللہ تعالیٰ نے گزشتہ زمانہ کی بہت سی باتوں کی خبر دی جوہوچکی ہیں اور آخر زمانہ کی ان چیزوں کی خبر دی جوہونےوالی ہیں اوران باتوں کی بھی جوقیامت کے دن ہوں گی۔جیسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جنت اور دوزخ کے احوال اور ان میں داخل ہونےوالوں کی خبر دی ہےاور یہی وہ فضیلت ہے جو اللہ تعالیٰ نےآپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کا وصف ہے اور امت کے امی ہونے سےیہ مقصود ہرگز نہیں کہ انہیں امی رہنے کی ہی ترغیب دلائی گئی ہے ۔ مقصود تو صرف اس حقیقت اورحال کی خبردیناتھی جس وقت کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم ان کی طرف مبعوث ہوئے۔ چنانچہ کتاب وسنت میں ایسے دلائل موجود ہیں جن میں علم حاصل کرنے، لکھنے اور امی ہونےکی حالت سےخروج کی ترغیب دی گئی ہے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نےفرمایا :
﴿ قُلْ هَلْ يَسْتَوِي الَّذِينَ يَعْلَمُونَ وَالَّذِينَ لَا يَعْلَمُونَ ﴾
آپ کہہ دیجیئے کہ وہ لوگ جوعلم رکھتے ہیں اورجونہیں رکھتے ،دونوں برابر ہوسکتے ہیں؟ ( الزمر : 9)
نیز فرمایا :
﴿ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا قِيلَ لَكُمْ تَفَسَّحُوا فِي الْمَجَالِسِ فَافْسَحُوا يَفْسَحِ اللَّـهُ لَكُمْ ۖ وَإِذَا قِيلَ انشُزُوا فَانشُزُوا يَرْفَعِ اللَّـهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنكُمْ وَالَّذِينَ أُوتُوا الْعِلْمَ دَرَجَاتٍ ﴾
اے ایمان والو! جب تم سےکہاجائے کہ مجلس میں کھل کر بیٹھو توکھل کر بیٹھاکرو۔ اللہ تمہیں کشادگی بخشے گا اورجب کہاجائےکہ اٹھ کھڑےہوتو اٹھ کھڑے ہوا کرو۔ اللہ تعالیٰ تم سے ان لوگوں کوبلند کرےگا جوایمان لائے اور انہیں علم عطا کیاگیا ہے ۔‘‘( المجادلہ : 11)
نیز فرمایا :
﴿ إِنَّمَا يَخْشَى اللَّـهَ مِنْ عِبَادِهِ الْعُلَمَاءُ ﴾
اللہ تعالیٰ سے صرف عالم لوگ ہی ڈرتے ہیں ۔‘‘( فاطر : 28)
اورنبی صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا :
((مَنْ سَلَكَ طَرِيقًا يَلْتَمِسُ فِيهِ عِلْمًا سَهَّلَ اللهُ لَهُ طَرِيقًا إِلَى الْجَنَّةِ))
جس شخص نےایسی راہ اختیار کی جس سےوہ علم حاصل کر سکے تواللہ تعالیٰ اس کےلیےجنت کوجانےوالی راہ آسان بنا دیتاہے ۔
اس حدیث کوامام مسلم نے اپنی صحیح میں روایت کیا ۔ نیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم نےیہ بھی فرمایا :