کتاب: فتاوی ابن باز(جلد 1) - صفحہ 258
اوراپنی الگ جگہ میں چلی گئی۔ جومصائب اس پر گزرے اور اولاد سے بھی جدائی ہوئی، ان سے لاچار ہوکر اٹھی، ریفریجریٹر سے گولیاں نکالیں اور ساری کی ساری کھالیں ۔ وہ چاہتی تھی کہ اپنی ایسی زندگی کوختم کر دے ۔ میں اسے ہسپتال لےگیا اور ضروری علاج کروایا....اپنی موت سے پیشترا سےیہ احساس ہو گیا کہ اب یہ اس کاآخری وقت ہے۔ اس نےتوبہ کی اور اپنے کئے پر بہت زیادہ استغفار کرتی رہی اورہم سے بھی درخواست کی ہم اس کی بخشش کےلیے دعاکریں۔
مشیت الہٰی سےوہ فوت ہوگئی۔ اس کےبعد اس کا کیا حال ہو گا.... اور کیا میرے لیے جائز ہےکہ میں اس کی طرف سےصدقہ اور حج کروں۔ یہ خیال رہے کہ میں نذر مان چکا ہوں کہ میں اپنی زندگی بھر اس کی طرف سے انشاء اللہ یہ اعمال بجالاتا رہوں گا.... مجھے مستفید فرمائیے ۔
محمد۔ ع۔ا۔الریاض
جواب:جب آپ کی مذکورہ بہن نے اللہ تعالیٰ کے حضور توبہ کر لی اورخودکشی کے اسباب سے اس نے جوکام کیا تھا اس پرنادم ہوئی تو اس کے لیےمغفرت کی امید کی جاسکتی ہے۔ توبہ پہلے گناہوں کویکسر ختم کر دیتی ہے اور گناہ سےتوبہ کرنےوالا ایسا ہی ہوتاہےجیسے اس نےگناہ کیاہی نہ تھا، جیساکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث سے یہ بات ثابت ہےاورجب آپ اس کی طرف سے صدقہ کریں یااس کے لیے استغفار کریں یا اس کےلیے دعا کریں تو یہ اچھی باتیں ہیں اوران کا اسے فائدہ پہنچےگا اورآپ کوان پر اجر ملےگا ۔
اورآپ نے جوطاعات کے کاموں کی نذر مانی ہے۔ آپ پر لازم ہے کہ انہیں پورا کریں۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نےنیک لوگوں کی مدح بیان کرتےہوئے اپنی نذریں پوری کرنےوالوں کی بھی مدح کی ہے۔ فرمایا :
﴿ يُوفُونَ بِالنَّذْرِ وَيَخَافُونَ يَوْمًا كَانَ شَرُّهُ مُسْتَطِيرًا ﴾
وہ لوگ اپنی نذریں پوری کرتےہیں اوراس دن سے ڈرتےہیں جس کی برائی بہت پھیلی ہوئی ہو گی۔‘‘( الانسان: آیت 7)
اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا :
((مَنْ نَذَرَ أَنْ يُطِيعَ اللَّهَ فَلْيُطِعْهُ ، وَمَنْ نَذَرَ أَنْ يَعْصِيَهُ فَلَا يَعْصِهِ))
جس نے اللہ تعالیٰ کی اطاعت کے کاموں کی نذر مانی اسے چاہیے کہ وہ اسے پورا کرے اورجس نے اللہ کی نافرمانی کے کاموں کی نذر مانی اسےچاہیے کہ وہ کام نہ کرے ۔
اس حدیث کوامام بخاری نےاپنی صحیح میں روایت کیا.... اور توفیق دینے والا تو اللہ تعالیٰ ہی ہے۔