کتاب: فتاوی ابن باز(جلد 1) - صفحہ 256
اے ايمان والو! الله تعالیٰ کےحضور سچی توبہ کرو۔ امید ہے کہ تمہارا پروردگار تم سے تمہاری برائیاں دور کر دے اور تمہیں ایسےباغات میں داخل کرے جن میں نہریں بہہ رہی ہیں ۔‘‘( التحریم :8) گویا اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے برائیوں کو دور کرنے اور باغات میں داخلہ کو سچی توبہ سے مشروط کیا ہے اور سچی توبہ ان باتوں پر مشتمل ہے ۔ گناہ کوچھوڑا اور اس سے اجتناب کیاجائے۔ جوکچھ کر چکا ہے اس پرپشیمان ہواوراللہ بزرگ وبرتر کی عظمت کی خاطر، اس کے ثواب میں رغبت رکھتےہیں اور اس کےعذاب میں ڈرتے ہوئےآئندہ وہ کام نہ کرنے کا پختہ عزم کرے..... اور سچی توبہ کی شرائط میں سے ایک یہ بھی ہےکہ اگر زیادتی سے کسی کا مال یا کوئی چیز لی ہو تووہ واپس کرے یا اس سے معاف کرائے جبکہ یہ زیادتی کسی کےخون ، مال یاعزت سے تعلق رکھتی ہو اور اگر کسی بےعزتی کی ہواور اسے معاف کروانا ممکن نہ ہو تواس کے حق میں بہت دعا کرے اور جہاں کہیں اس کی غیبت کرتا تھا وہاں اس کے اچھے اعمال کا تذکرہ کرے، جو وہ کیا کرتا تھا۔ کیونکہ نیکیاں برائیوں کودور کرتی ہیں ۔نیز اللہ تعالیٰ نےفرمایا : ﴿وَتُوبُوا إِلَى اللَّـهِ جَمِيعًا أَيُّهَ الْمُؤْمِنُونَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ﴾ ’’اے ایمان والو! اللہ کے ہاں سب کے سب توبہ کرو، تاکہ تم فلاح پاؤ۔‘‘( النور : 31) اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے فلاح کو توبہ سے مشروط کیا جو اس بات کی دلیل ہے کہ توبہ کرنےوالا اپنی مراد کو پہنچنے والا اور نیک بخت ہے اور جب وہ توبہ کے بعد ایمان لائے اور اچھے کام کرے تو اللہ تعالیٰ اس کی برائیاں مٹا کر انہیں نیکیوں میں بدل دیتا ہے ۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے سورۃ فرقان میں شرک ، قتل ناحق اور زنا کا ذکر کرتےہوئے فرمایا : ﴿وَالَّذِينَ لَا يَدْعُونَ مَعَ اللّٰـهِ إِلَـٰهًا آخَرَ وَلَا يَقْتُلُونَ النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللّٰهُ إِلَّا بِالْحَقِّ وَلَا يَزْنُونَ ۚ وَمَن يَفْعَلْ ذَٰلِكَ يَلْقَ أَثَامًا ﴿٦٨﴾ يُضَاعَفْ لَهُ الْعَذَابُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَيَخْلُدْ فِيهِ مُهَانًا ﴿٦٩﴾ إِلَّا مَن تَابَ وَآمَنَ وَعَمِلَ عَمَلًا صَالِحًا فَأُولَـٰئِكَ يُبَدِّلُ اللّٰـهُ سَيِّئَاتِهِمْ حَسَنَاتٍ ۗ وَكَانَ اللَّـهُ غَفُورًا رَّحِيمًا﴾ اور جوشخص یہ کام کرے وہ اپنے گناہ کے انجام کو پہنچے گا۔ قیامت کے دن اس کو دگنا عذاب ہوگا اور وہ جہنم میں ذلیل وخوار کر رہے گا۔ مگر جس نے توبہ کی اور ایمان لایا اور اچھے کام کیے توایسے لوگوں کی برائیوں کو اللہ تعالیٰ نیکیوں میں بدل دے گا اور اللہ تعالیٰ بخشنےوالا مہربان ہے ۔‘‘( الفرقان: 68۔ 70) اور جو باتیں توبہ کا ذریعہ بنتی ہیں،یہ ہیں۔ اللہ سبحانہ کےحضور عاجزی کرے اور اس سے ہدایت اور توفیق کاسوال کرے اور سمجھے کہ توبہ قبول کر کے اللہ مجھ پر احسان کر رہا ہے ۔ اور یہی بات اللہ سبحانہ وتعالیٰ فرما رہے ہیں : ﴿ادْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ﴾ مجھے پکارو، میں تمہاری دعا قبول کروں گا۔‘‘(غافر: 60)