کتاب: فتاوی ابن باز(جلد 1) - صفحہ 250
ڈال کر کہنے لگی: ’’یہ دونوں اللہ اور اس کے رسول کے لیے ہیں۔‘‘
گویا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کنگنوں پر زکوٰۃ واجب ہونے کی تو وضاحت کر دی۔ لیکن اس کی بٹی کے ان کنگنوں کے پہننے کو برا نہ سمجھا۔ جو اس کے جائز ہونے پر دلالت کرتا ہے اور یہ کنگن گولائی دار تھے اور یہ حدیث صحیح اور اس کی اسناد جید ہیں۔ جیسا کہ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے بلوغ المرام میں اس پر تنبیہہ کی ہے۔
(۲)سنن ابی داؤد میں صحیح اسناد کے ساتھ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ ’’نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں نجاشی کی طرف سے ایک زیور پیش کیا گیا، جو اس نے ہدیۃ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بھیجا تھا۔ اس میں ایک سونے کی انگوٹھی تھی جس میں ایک حبشی نگینہ تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے اعراض کرتے ہوئے کسی لکڑی یا اپنی کسی انگلی سے پرے ہٹایا۔ پھر ابوالعاص کی بیٹی امامہ، جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی زینب کی بیٹی تھی، کو بلایا اور اسے کہا: ’’بیٹی! یہ پہن لو۔‘‘ گویا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ انگوٹھی امامہ کو دے دی اور یہ گولائی دار سونا تھا جسے آپ نے پہننے کو کہا۔ گویا یہ حدیث گولائی دار سونے کے حلال ہونے پر نص ہے۔
(۳)جس حدیث کو ابوداؤد اور دارقطنی نے روایت کیا اسے حاکم نے صحیح کہا ہے۔ جیسا کہ بلوغ المرام میں ہے کہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں سونے کی پازیب پہنے ہوئے تھی۔ میں نے کہا: ’’اے اللہ کے رسول! کیا یہ کنز (کے حکم میں) ہیں؟‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جب تو ان کی زکوٰۃ ادا کر دے تو یہ کنز نہیں۔‘‘
رہی وہ احادیث جن سے بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ عورتوں کے لیے سونا پہننے کی ممانعت ہے تو وہ شاذ ہیں اور ان احادیث کے مخالف ہیں جو ان سے صحیح تر اور مضبوط تر ہیں اور ائمہ حدیث نے یہ طے کیا ہے کہ جو احادیث جید اسناد سے ہوں مگر وہ ایسی احادیث کے مخالف ہوں جو ان سے صحیح تر ہوں اور ان میں تطبیق ممکن نہ ہو، نہ ہی ان کی تاریخ معلوم ہو تو انہیں شاذ سمجھا جائے گا۔ نہ ان کی طرف رجوع کیا جائے گا اور نہ ان پر عمل کیا جائے گا۔ چنانچہ حافظ عراقی ’’الفیہ‘‘ میں کہتے ہیں:
وذو الشُّذوذِ مَا یُخَالفُ الثِّقَۃُ فیہ الْمَلَأَ فالشَّافعی حَقَّقَہُ
’’امام شافعی رحمہ اللہ کی تحقیق کے مطابق کہ جب ایک ثقہ ثقات جماعت کی مخالفت کرے تو ایک ثقہ کی حدیث شاذ ہوگی۔‘‘
اور حافظ ابن حجر ’’نخبۃ‘‘ میں کہتے ہیں جس کا ماحصل یہ ہے:
فان خُولِفَ بارْجَح فالرَّاجِعُ الْمَحْفوظُ ومقابلُہ ومقابلُہ الشَّاذُ
’’یعنی اگر ثقہ اوثق (زیادہ ثقہ) کی مخالفت کرے تو ثقہ کی روایت شاذ اور اوثق کی روایت محفوظ شمار ہوگی۔‘‘
ائمہ حدیث کہتے ہیں کہ صحیح حدیث کی ایک شرط یہ بھی ہے کہ جس پر عمل ہوتا رہا وہ شاذ نہ ہوگی اور اس میں کوئی شک نہیں کہ جن احادیث میں عورتوں کے لیے سونے کی حرمت کا ذکر آیا ہے اگر ان کی اسناد کو