کتاب: فتاویٰ برائے خواتین - صفحہ 369
جواب: آپ اس کام کو غیر پسندیدگی کی نظر سے نہ دیکھیں چاہے اس پر عرصۂ دراز ہی کیوں نہ بیت جائے۔ ہو سکتا ہے کہ یہ کام دوسرے کام سے بہتر ہو اس کے ساتھ ہی ساتھ آپ مقدور بھر اپنی ذمہ داریاں نبھانے کی کوشش کریں، اس کے باوجود اگر کوئی کمی رہ جائے تو وہ قابل معافی ہے، دوسرے کام کی جستجو کرنے میں بھی کوئی حرج نہیں۔ اللہ تعالیٰ کی رحمت سے مایوس نہ ہوں اور نہ ہی قبولیت دعا کے لیے جلد بازی کا شکار ہوں، ممکن ہے اس میں بہتری ہو۔ نماز استخارہ سنت ہے اور فضیلت کی چیز ہے۔ عین ممکن ہے اللہ تعالیٰ کے علم میں یہ بات ہو کہ آپ کے لیے کسی اور کام کی نسبت یہ کام زیادہ بہتر ہے اگرچہ اس میں نفسیاتی کراہت ہی کیوں نہ ہو۔ …شیخ ابن جبرین…