کتاب: فتاویٰ اصحاب الحدیث(جلد 5) - صفحہ 583
چنانچہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کا بیان ہے کہ اللہ کی قسم! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین چیزوں کے سوا ہمیں لوگوں سے الگ کوئی خصوصی حکم نہیں دیا، آپ نے ہمیں حکم دیا ہے کہ ہم وضو مکمل اور اچھی طرح کریں، صدقہ نہ کھائیں، اور گدھوں کی گھوڑیوں سے جفتی نہ کرائیں۔[1]
ایک روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’یہ کام بے علم لوگ کرتے ہیں۔‘‘[2]
اس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے سرزنش ہے کہ باشعور اور اچھے لوگ یہ کام نہیں کرتے، ہاں اگر از خود یہ عمل ہو جائے یا کوئی جاہل لوگ ایسا کریں تو اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے خچر سے فائدہ اٹھانا جائز ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خچر کا تحفہ ملا تو آپ نے اسے قبول فرما لیا اور متعدد مرتبہ اس پر سواری بھی کی نیز قرآن کریم نے خچروں کی سواری اور ان کے باعث زینت ہونے کو بیان کیا ہے۔ [3]
گدھے اور گھوڑے کی جنس آپس میں ملتی جلتی ہے۔ اس لیے سائنسی اعتبار سے ان کا ملاپ اور اس کے نتیجے میں خچر کی پیدائش ممکن ہے، لیکن یہ خود افزائش نسل کے قابل نہیں ہے، گدھا چونکہ حرام ہے لہٰذا اس سے پیدا ہونے والی نسل بھی حرام ہے، اس سلسلہ میں شریعت کا ایک ضابطہ ہے:
’’حلال واضح ہے اور حرام بھی ظاہر ہے، ان کے درمیان کچھ مشتبہ چیزیں ہیں جس شخص نے اس چیز کو ترک کر دیا جس میں گناہ کا شبہ ہو تو وہ اس چیز کو بدرجہ اولیٰ چھوڑ دے گا جس کا گناہ ہونا واضح ہو اور جس نے شبہ کی چیز پر جرأت کی تو وہ جلد ہی ایسی بات میں مبتلا ہو سکتا ہے جس کا گناہ ہونا ظاہر ہے۔‘‘[4]
بہرحال خچر حرام ہے۔ اس سے سواری اور باربرداری کا فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے جیسا کہ فوجی حضرات پہاڑی علاقوں میں خچر سے کام لیتے ہیں۔ واللہ اعلم!
٭٭٭
[1] نسائی، الطہارۃ:۱۴۱۔
[2] مسند امام احمد، ص۹۸،ج۱۔
[3] النحل:۸
[4] بخاری، البیوع:۲۰۵۱۔