کتاب: فتاویٰ اصحاب الحدیث(جلد 5) - صفحہ 581
اس روایت میں خلف بن سلیمان اور عمران راوی دونوں مجہول ہیں۔ چنانچہ علامہ البانی رحمہ اللہ نے اس قسم کے راویوں کے پیش نظر اس روایت کے متعلق ’’منکرا جدا‘‘ کہا ہے۔[1] اس سلسلہ میں حمی الدین محمد بن علی اندلسی کا واقعہ بیان کیا جاتا ہے کہ انہوں نے ایک جِنیہ سے نکاح کیا تھا، جس کے بطن سے تین بچے ہی پیدا ہو سکتے تھے۔ علامہ ذہبی نے امام صوفی ابن عربی کی تضاد بیانی واضح کرنے کے لیے یہ واقعہ بیان کیا ہے، چنانچہ وہ امام تقی الدین ابن دقیق کے حوالے سے لکھتے ہیں: ’’میں نے اپنے شیخ امام عز الدین ابو محمد بن عبد السلام السلمی سے سنا، انہوں نے فرمایا کہ ابن عربی سے انسانوں کا جنات سے نکاح کے متعلق سوال ہوا تو کہا کہ ایسا ہونا محال ہے کیوں کہ وہ انسانوں کا کثیف جسم مادی ہے اور جنات ایک روحانی لطیف جسم رکھتے ہیں۔ اس کے فوراً بعد اس نے کہا کہ میں نے ایک جنیہ سے نکاح کیا تھا، اس سے تین بچے ہی پیدا ہوئے پھر ایک دن وہ مجھ سے ناراض ہو گئی اور میرے سر کو ایک ہڈی مار کر زخمی کر دیا اور گھر چھوڑ کر چلی گئی۔‘‘[2] یہ واقعہ ابن عربی کے جھوٹ اور تضاد بیانی کو واضح کرنے کے لیے بیان کیا گیا ہے کہ اس میں کوئی صداقت نہیں ہے اور نہ ہی یہ روایات کے متعلق قابل اعتماد ہے۔ امام ابن جریر طبری نے حضرت مجاہد کے حوالے سے ایک روایت بیان کی ہے جس کے الفاظ یہ ہیں: جب کوئی انسان مسنون دعاپڑھے بغیر اپنی بیوی سے جماع کرتا ہے تو سانپ کی شکل میں شیطان اس کی شرمگاہ سے لپٹ جاتا ہے اور اس کے ساتھ جماع میں شریک ہو جاتا ہے۔[3] شیطان جماع میں شریک نہیں ہو سکے گا جیسا کہ امام مجاہد سے مروی ہے۔[4] مفسرین حضرات بھی امام مجاہد کے قول کو درج ذیل ارشاد باری تعالیٰ کی تفسیر میں بیان کرتے ہیں: ﴿وَ شَارِکْہُمْ فِی الْاَمْوَالِ وَ الْاَوْلَادِ﴾[5] ’’اور ان کے مال اور اولاد میں شریک ہو جا۔‘‘ چنانچہ علامہ شوکانی نے اپنی تفسیر میں اس کا حوالہ دیا ہے۔[6] علامہ البانی رحمہ اللہ نے اس اثر کے متعلق لکھا ہے ’’منکر مقطوع‘‘[7]
[1] الاحادیث الضعیفہ، حدیث رقم:۵۷۷۶۔ [2] میزان الاعتدال،ص۶۵۹،ج۳۔ [3] تفسیر طبری ص۱۵۱،ج۱۱۔ [4] فتح الباری، ص۲۸۵،ج۹۔ [5] بنی اسرائیل:۶۴۔ [6] فتح القدیر،ص۲۳۳،ج۳۔ [7] سلسلہ الاحادیث الضعیفہ،ص۶۰۳،ج۱۲۔