کتاب: فتاویٰ اصحاب الحدیث(جلد 5) - صفحہ 579
﴿اِنَّا خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ مِنْ نُّطْفَةٍ اَمْشَاجٍ ﴾[1]
’’ہم نے انسان کو ایک مخلوط نطفے سے پید اکیا ہے۔‘‘
یعنی مرد اور عورت کا مادہ تولید جب ملتا ہے تو اس سے ایک تیسری مخلوق (بچہ) نر یا مادہ وجود میں آتا ہے۔ ایک دوسرے مقام پر ان کروموسوم کے محل افزائش کا تعیین کرتے ہوئے فرمایا:
﴿يَّخْرُجُ مِنْ بَيْنِ الصُّلْبِ وَ التَّرَآىِٕبِ﴾[2]
’’وہ (مادہ تولید) پیٹھ اور سینے کی ہڈیوں کے درمیان سے برآمد ہوتا ہے۔‘‘
یعنی عورت اور مرد کا مادہ تولید اس دھڑ سے خارج ہوتا ہے جو پیٹھ اور سینے کے درمیان واقع ہے۔ اگر دو مختلف اجناس کے کروموسوم کی تعداد، شکل و صورت، خصوصیات و اوصاف اور ترتیب میں فرق ہو جائے تو ان کے ملاپ سے کوئی چیز پیدا نہیں ہوتی، اگر ان میں معمولی فرق ہو تو کوئی تیسری چیز وجود میں تو آ جاتی ہے لیکن وہ افزائش نسل کے قابل نہیں ہوتی مثلاً
گھوڑی اور گدھے کے ملاپ سے خچر پیدا ہوتا ہے، اگرچہ شریعت نے اس سے منع کیا ہے تاہم فوجی حضرات اپنی ضروریات کے لیے مصنوعی بار آوری کے ذریعے خچر پیدا کرتے ہیں لیکن یہ خچر نر ہو یا مادہ آگے افزائش نسل کے قابل نہیں ہوتا۔ یہ صرف اپنی ذات کی حد تک محدود رہتا ہے، آگے نسل نہیں چلتی۔
زیبرا، مادہ (جنگلی گدھی) اور گدھے کا ملاپ بھی ممکن ہے کیوں کہ یہ دونوں جنس کے اعتبار سے قریب قریب ہیں، لیکن اس کے نتیجہ میں پیدا ہونے والا بچہ بھی افزائش نسل کے قابل نہیں ہوتا لیکن عقلی اور سائنسی اعتبار سے خنزیر اور بھینس کا ملاپ ممکن نہیں کیوں کہ عقلی اعتبار سے بھینس گھریلو جانور ہے اور خنزیر جنگلی درندہ ہے، ان دونوں کا ملاپ کیسے ہو سکتا ہے، مصنوعی طور پر بھی ایسا نہیں ہو سکتا کیوں کہ خنزیر کا مادہ ہمارے ہاں بسہولت دستیاب نہیں ہے، سائنسی اعتبار سے اس لیے ممکن نہیں کہ بھینس کے کروموسوم ساٹھ جس کے تیس (۳۰) جوڑے بنتے ہیں جبکہ خنزیر کے اڑتیس ہیں جن کے انیس (۱۹) جوڑے ہیں، پھر ان دونوں جانوروں کی خصوصیات و امتیازات بھی الگ الگ ہیں، اگر ایسا ممکن ہوتا تو اللہ تعالیٰ حضرت نوح علیہ السلام کو یہ حکم نہ دیتا کہ
﴿احْمِلْ فِيْهَا مِنْ كُلٍّ زَوْجَيْنِ اثْنَيْنِ ﴾[3]
’’اس کشتی میں ہر قسم کے جانوروں کا ایک ایک جوڑا (نر اور مادہ) سوار کر لو۔‘‘
بلکہ کشتی میں تمام جانوروں کی مادہ بٹھا لیتے اور نر ایک ہی کافی تھا، ان کے ملاپ سے آگے جانوروں کی نسل چلائی جا سکتی تھی، لیکن اللہ تعالیٰ نے اس غیر فطرتی کام کا حضرت نوح کو حکم نہیں دیا۔
بہرحال خنزیر ایک الگ جنس ہے اور بھینس ایک دوسری جنس، ان کا باہمی ملاپ ناممکن تو نہیں البتہ اس سے کسی جنس کا پیدا
[1] الدھر:۲۔
[2] الطارق:۷۔
[3] ھود:۴۰۔