کتاب: فتاویٰ اصحاب الحدیث(جلد 5) - صفحہ 577
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی لفظ مولیٰ کو غیر اللہ کے لیے استعمال فرمایا ہے۔ آپ نے ایک مرتبہ سیدنا زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا تھا: ’’تو ہمارا بھائی اور ہمارا مولیٰ ہے۔‘‘[1]
بلکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس لفظ کے استعمال کی تلقین فرمائی ہے۔
چنانچہ حدیث میں ہے: ’’تم میں سے کوئی یوں نہ کہے کہ اپنے رب کو کھانا دو، اپنے رب کو وضو کراؤ، بلکہ اپنے آقا کو سید اور مولیٰ کہا جائے۔‘‘[2]
بہرحال قرآن مجید اور احادیث سے یہ تو معلوم ہوا کہ لفظ مولیٰ غیر اللہ کے لیے استعمال ہو سکتا ہے۔ نیز نیک اور خاص اہل ایمان کے لیے یہ لفظ بطور اعزاز کے ہے، اسی لیے اہل حق نے اصحاب علم کے لیے بطور احترام یہ لفظ منتخب کیا ہے۔ اب یہ لفظ یعنی مولانا ایک خاص اصطلاح کے طور پر استعمال ہوتا ہے جو ہر درس نظامی سے فارغ التحصیل کے لیے ہے اور اس میں شرعاً کوئی قباحت نہیں ہے۔
آخر میں ہم اس حدیث کا بھی جائزہ لینا چاہتے ہیں جو صحیح مسلم کے حوالے سے سوال میں ذکر کی گئی ہے، اس کے الفاظ یہ ہیں: ’’کوئی غلام اپنے آقا کے لیے لفظ مولیٰ استعمال نہ کرے کیوں کہ تمہارا مولیٰ تو صرف اللہ ہے۔‘‘[3]
دراصل یہ الفاظ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ایک طویل حدیث کا حصہ ہیں، بلکہ اصل حدیث میں اضافہ کی حیثیت رکھتے ہیں۔ متن حدیث کچھ اس طرح ہے: ’’تم میں سے کوئی اپنے غلام کو ’’عبدی‘‘ نہ کہے کیوں کہ تم سب اللہ کے بندے ہو، چاہیے کہ میرا نوکر یا میرا خدمت گزار کے الفاظ کہے جائیں۔ اسی طرح اپنے آقا کو ’’ربی‘‘ نہ کہے بلکہ اسے سیدی کہنا چاہیے۔‘‘[4]
مذکورہ اضافہ کو بیان کرنے والے حضرت اعمش کے دو شاگرد ہیں، اس کے متعلق حافظ ابن حجر رحمہ اللہ لکھتے ہیں: ’’امام مسلم نے حضرت اعمش کے منقول اس روایت کے متعلق اختلاف نقل فرمایا ہے۔ چند راوی اس اضافہ کو نقل کرتے ہیں جبکہ بیشتر راوی صرف حدیث کے اصل الفاظ ذکر کرنے پر اکتفاء کرتے ہیں۔ قاضی عیاض فرماتے ہیں کہ اس اضافہ کو روایت سے حذف کر دینا زیادہ صحیح ہے اور علامہ قرطبی کا بھی یہی موقف ہے۔‘‘ [5]
ہم نے شروع میں ایک حدیث کے حوالے سے لکھا ہے کہ اپنے آقا کو مولیٰ کہا جا سکتا ہے جبکہ مذکورہ اضافہ میں اس کی صریح ممانعت ہے، اس صورت حال کے پیش نظر ان میں ایک روایت کو مرجوح قرار دئیے بغیر تطبیق کی کوئی صورت سامنے نہیں آتی۔ محدثین کرام نے اضافہ کے بغیر اصل روایت کو راجح قرار دیا ہے۔
چنانچہ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ کہتے ہیں: ’’ہم نے اضافہ کو کالعدم قرار دے کر ترجیح کی ایک صورت پید اکی ہے کیوں کہ دونوں روایات بایں طو ر متعارض ہیں کہ جمع و تطبیق ناممکن ہے اور تاریخ کا بھی علم نہیں تاکہ ایک کو ناسخ اور دوسری کو منسوخ قرار دیا جائے۔[6]
[1] بخاری، الصلح:۲۶۹۹۔
[2] فتح الباری، ج۵، ص۲۲۲۔
[3] مسلم، الادب:۲۲۴۹۔
[4] مسلم، الالفاظ من الادب:۲۲۴۹۔
[5] فتح الباری،ج۵ ،۲۲۲۔
[6] فتح الباری، ج۵،ص۲۲۲۔