کتاب: فتاویٰ اصحاب الحدیث(جلد 5) - صفحہ 575
جواب: سانپوں کی دو اقسام ہیں:
ایک تو وہ سانپ ہیں جو گھروں میں رہتے ہیں، انہیں عوامر اور ذوات البیوت کہتے ہیں۔
دوسرے وہ سانپ جو آبادی سے باہر رہتے ہیں۔
آبادی سے باہر رہنے والوں کو مار دینے کا حکم ہے خواہ انسان احرام کی حالت میں ہی کیوں نہ ہو۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک محرم کو منیٰ میں برآمد ہونے والے سانپ کو مارنے کا حکم دیا تھا جیسا کہ سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں۔[1]
جو سانپ آبادی یا گھروں میں رہتے ہیں، ان میں سے دو اقسام ایسی ہیں جنہیں فوراً مار دینے کا حکم ہے:
٭ دم بریدہ سانپ جسے ’’الابتر‘‘ کہا جاتا ہے۔
٭ دو دھاریوں والا سانپ جسے حدیث میں ذوطفتین کہا گیا ہے۔
ان کو مارنے کی وجہ یہ بتائی گئی ہے کہ یہ دونوں سانپ انتہائی زہریلے اور نقصان دہ ہوتے ہیں، ان کی غیر مرئی پھوار سے بینائی ختم ہو جاتی ہے اور عورتوں کے حمل ضائع ہو جاتے ہیں۔ جیسا کہ حدیث میں اس کی صراحت ہے۔ [2]
ان دو قسم کے سانپوں کے علاوہ اگر گھر سے سانپ برآمد ہو تو اس کے متعلق شرعی ہدایات یہ ہیں کہ انہیں تین دن تک وہ گھر چھوڑ دینے کی وارننگ دی جائے اور ان کے رہنے کی جگہ کو تنگ کر کے انہیں گھر سے نکالنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ اگر تین دن تک گھر نہ چھوڑیں تو انہیں مار دیا جائے۔ اس سے قبل انہیں مارنے سے نقصان کا اندیشہ ہے۔ کیوں کہ بعض اوقات جن بھی سانپ کا روپ دھار لیتے ہیں۔ ممکن ہے کہ گھر میں رہنے والا حقیقی سانپ نہ ہو بلکہ کسی جن نے سانپ کی شکل اختیار کر رکھی ہو۔ اگر تین دن کے دوران نکل جاتے ہیں تو وہ مسلمان جن ہے اور اس نے بات مان کر گھر چھوڑ دیا ہے۔ اگر تین دن وارننگ کے باوجود گھر سے نہیں جاتا تو وہ شیطان اور کافر جن ہے جسے مار دینے کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا ہے۔[3]
اس امر کی وضاحت کرنا بھی ضروری ہے کہ جن، انتہائی لطیف جسم کے مالک ہوتے ہیں، انہیں اللہ تعالیٰ نے یہ صلاحیت دے رکھی ہے کہ وہ ظاہری اجسام میں سے کسی بھی شکل کو اختیار کر سکتے ہیں، جب وہ نظر آنے والی صورت اختیار کرتے ہیں تو ان کے لیے مناسب ترین شکل وہی ہو سکتی ہے جو نظر آ سکنے کے باوجود پوشیدہ رہتی ہو، سانپ کا جسم اس مقصد کے لیے سب سے مناسب ہے کیوں کہ یہ مخلوق بھی اپنے بلوں میں چھپ کر رہتی ہے۔
سوال میں ذکر کردہ واقعہ سے ملتا جلتا ایک واقعہ دور نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں رونما ہوا جس کی تفصیل حسب ذیل ہے:
’’سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ مدینہ طیبہ میں ایک نوجوان رہتا تھا جس کی تازہ تازہ شادی ہوئی تھی، جب ہم غزوہ خندق کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ خندق کی طرف گئے تو وہ نوجوان دوپہر کے وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت
[1] مسلم، السلام:۵۸۳۷۔
[2] مسلم، السلام:۵۹۲۶۔
[3] مسلم، السلام:۵۸۳۹۔