کتاب: فتاویٰ اصحاب الحدیث(جلد 5) - صفحہ 572
پراندہ ہی دھوکہ دہی کا باعث ہوتا ہے اس لیے اس رنگ کا پراندہ منع ہے۔ ہاں اگر عورت کے بال کسی وجہ سے سفید ہو چکے ہیں تو اس کے لیے سفید رنگ کا پراندہ منع ہو گا۔ باقی نیت کا معاملہ تو اللہ تعالیٰ کے سپرد ہے،ا لبتہ دیکھنے والوں کا بھی اعتبار کیا جائے گا۔
٭ بالوں کی حفاظت اور خوبصورتی کے لیے پراندہ استعمال کیا جاتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے: ’’جس نے بال رکھے ہوں تو چاہیے کہ انہیں بنا سنوار کر رکھے۔‘‘[1]
بالوں کی تکریم کا تقاضا یہ ہے کہ ان کی حفاظت کی جائے، عورتوں کے لیے بالوں کی حفاظت پراندے سے ہوتی ہے، اس لیے اسے استعمال کیا جا سکتا ہے۔
چنانچہ امام ابو داؤد نے حضرت سعید بن جبیر رحمہ اللہ کے حوالے سے لکھا ہے: ’’دھاگوں سے بنی ہوئی چوٹی (پراندہ) کے استعمال میں چنداں حرج نہیں۔‘‘ … آگے امام ابو داؤد رحمہ اللہ خود ہی اس کی وضاحت کرتے ہیں: ’’گویا حضرت سعید بن جبیر رحمہ اللہ کی رائے کے مطابق عورتوں کے لیے بالوں کے ساتھ دوسرے بال جوڑنا ہی منع ہے۔
حضرت امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کا موقف بھی یہی ہے کہ ’’دھاگوں کی چوٹی کے استعمال میں کوئی حرج نہیں۔[2]
یہ اقوال اگرچہ ضعیف ہیں تاہم مسئلہ کی تائید کے لیے انہیں پیش کیا جا سکتا ہے۔
٭ بالوں کو قدرتی طور پر لمبا کیا جائے، جیسا کہ کسی بیل کو بڑھنے کے لیے سہارے کی ضرورت ہوتی ہے، اسی طرح بالوں کو قدرتی طور پر لمبا کرنے کے لیے پراندہ ایک سہارے کا کام دیتا ہے۔
چنانچہ خواتین ان بچیوں کے لیے پراندہ استعمال کراتی ہیں جن کے بال چھوٹے ہوتے ہیں اور اس کے استعمال سے بال بڑھ جاتے ہیں۔ اس مقصد کے پیش نظر بھی پراندہ استعمال کیا جا سکتا ہے۔
مختصر یہ کہ درج ذیل شرائط کے ساتھ پراندہ استعمال کیا جا سکتا ہے:
٭ جعل سازی اور دھوکہ دہی کے پیش نظر سیاہ پراندہ استعمال نہ کیا جائے۔
٭ اس سے مردوں کو اپنی طرف مائل کرنا مقصود نہ ہو۔
٭ بالوں کی حفاظت اور خوبصورتی کے لیے اسے استعمال کیا جا سکتا ہے۔
٭ بالوں کو قدرتی طور پر لمبا کرنے کے لیے بھی اس کے استعمال میں چنداں حرج نہیں۔
مسئلہ کی وضاحت کے لیے ہم نے یہ دراز نفسی کی ہے وگرنہ آج کل ماڈرن لڑکیاں پراندے کے استعمال کو بارخیال کرتی ہیں، اب تو بالوں کو کاٹ کر چھوٹے کرنا ایک فیشن ہو چکا ہے۔ جن خواتین کے بال لمبے ہوتے ہیں، وہ پراندے کی بجائے ’’پونی‘‘ استعمال کرتی ہیں۔ بدقسمتی سے ان کی دیکھا دیکھی کچھ مرد بھی پونی استعمال کرتے ہیں۔ مردوں کے لیے ایسا کرنا جائز نہیں۔ بہرحال بالوں کو قابو میں رکھنے کے لیے پراندہ لگانا جائز ہے بشرطیکہ وہ بالوں کے رنگ سے مختلف ہو، وہ پراندہ چھوٹا ہو
[1] ابو داؤد، الترجل:۴۱۶۳۔
[2] ابو داؤد، الترجل:۴۱۷۱۔