کتاب: فتاویٰ اصحاب الحدیث(جلد 5) - صفحہ 570
زناکاری کی کثرت ہے۔ بدکاری کے نتیجہ میں اگر حمل ٹھہر جائے تو اس کی تلافی کے لیے بہت سی تدبیریں اختیار کی جاتی ہیں، ادویات وغیرہ کے استعمال سے فوراً رحم کی صفائی کر دی جاتی ہے،خاندان کو بدنامی سے بچانے کے لیے لوگ دو طریقے عمل میں لاتے ہیں۔
٭ زانی مرد سے دوران حمل حاملہ کا نکاح کر دیا جاتا ہے تاکہ اس فعل بد پر پردہ پڑ جائے اور دنیا کے سامنے رسوائی نہ ہو۔
٭ زانیہ کے حمل کو ضائع کر دیاجاتا ہے خواہ اس میں روح کیوں نہ پڑ چکی ہو، اس کے لیے ہر حربہ استعمال کیا جاتا ہے۔
یاد رہے کہ دوران حمل زانیہ کا نکاح حرام ہے تاآنکہ وہ بچہ جنم دے لے، وضع حمل کے بعد اس کا نکاح جائز ہے خواہ زانی سے ہی کر دیا جائے۔
اس طرح اگرچہ زنا کا ارتکاب ایک سنگین جرم ہے لیکن اس سے بڑا گناہ اس کے حمل کو ساقط کرنا اور بچے کو ناحق قتل کرنا ہے۔ محض چند ٹکوں کی خاطر ڈاکٹروں، نرسوں اور دائیوں کو ایسے فعل سے اجتناب کرنا چاہیے۔
بعض اوقات جائز حمل کا اسقاط بھی جائز ہے جبکہ کوئی شرعی عذر ہو۔ مثلاً:
٭ عورت کا حمل اس کے لیے جان لیوا ثابت ہو۔
٭ عورت، وضع حمل کی سکت نہ رکھتی ہو۔
٭ عورت کا حمل اور اس کا وضع بچے کے لیے مہلک ہو۔
شرعی عذر کے بغیر رحم مادر میں جب حمل کا استقرار ہو جائے تو اسے ساقط کرنا جائز نہیں۔ اگرچہ کچھ علماء نے نفخ روح سے قبل اسقاط کو جائز قرار دیا ہے وہ اسے عزل کی طرح قرار دیتے ہیں لیکن صاحب بصیرت فقہاء اس صورت میں بھی اسقاط حمل کی اجازت نہیں دیتے کیوں کہ اس صورت میں بچے کی پیدائش کی بنیاد پڑ چکی ہے، جیسا کہ حرم میں جہاں پرندوں کا شکار کرنا منع ہے، اسی طرح ان کے انڈوں کو تلف کرنا بھی ناجائز ہے۔
بہر حال ہمارے رحجان کے مطابق حمل کے کسی بھی مرحلہ میں اسقاط یا تلف کی رخصت نہیں اور محتاط پہلو یہی ہے کہ حمل ٹھہرنے کے بعد اسے بلاعذر شرعی ضائع کرنے سے اجتناب کیا جائے ۔ البتہ نفخ روح کے بعد تو بالاتفاق اسقاط حمل ناجائز اور حرام ہے کیوں کہ اس حالت میں جنین زندہ نفس کی صورت اختیار کر چکا ہوتا ہے اور کسی بھی زندہ جان کو ناحق قتل کرنا حرام ہے۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے:
’’اور ایسی جان کو ناحق قتل نہ کرو جسے مارنا اللہ تعالیٰ نے حرام قرار دیا ہے۔‘‘[1]
ایک حدیث سات ہلاکت خیز گناہوں کا ذکر ہے جس میں سے ایک ناحق قتل بھی ہے۔[2]
ایک حدیث میں اس کی مزید وضاحت ہے کہ حضرت ماعز بن مالک رضی اللہ عنہ کو جب رجم کیا گیا تو غامدی قبیلہ کی ایک عورت
[1] الانعام:۱۰۱۔
[2] بخاری، الحدود:۲۷۶۶۔