کتاب: فتاویٰ اصحاب الحدیث(جلد 5) - صفحہ 568
مؤنث ہونے کا اصل علم اللہ تعالیٰ ہی کے پاس ہے۔ جیسا کہ قرآن مجید میں ہے: ﴿اِنَّ اللّٰهَ عِنْدَهٗ عِلْمُ السَّاعَةِ١ وَ يُنَزِّلُ الْغَيْثَ وَ يَعْلَمُ مَا فِي الْاَرْحَامِ١ وَ مَا تَدْرِيْ نَفْسٌ مَّا ذَا تَكْسِبُ غَدًا١ وَ مَا تَدْرِيْ نَفْسٌ بِاَيِّ اَرْضٍ تَمُوْتُ١ ﴾[1] ’’بلاشبہ اللہ ہی کے پاس قیامت کا علم ہے، وہ بارش اتارتا ہے اور وہ رحم مادر میں جو ہے اسے جانتا ہے، نیز کسی نفس کو معلوم نہیں کہ وہ کل کیا کمائے گا اور نہ کسی کو یہ معلوم ہے کہ وہ کس زمین میں مرے گا۔‘‘ حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت میں مذکورہ پانچ چیزوں کو غیب کی چابیاں قرار دیا ہے، جنہیں اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔[2] مذکورہ آیت و حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ پانچ غیبی امور کا قطعی اور یقینی علم صرف اللہ تعالیٰ کے پاس ہے، اس کے علاوہ کوئی دوسرا ان پر قطعی اور یقینی لحاظ سے مطلع نہیں ہو سکتا۔ جو لوگ اس طرح کے دعوے کرتے ہیں، ان کی حقیقت ظن و تخمین کے علاوہ کچھ بھی نہیں۔ بار ہا ایسا ہوا ہے کہ ان کی اطلاعات حقیقت کے خلاف او ر غیر معیاری ثابت ہوتی ہیں، البتہ احادیث میں رحم مادر میں بچے کی شکل و صورت اور اس کے نر و مادہ ہونے کے بارے میں کچھ اسباب بیان ہوئے ہیں کہ رحم مادر میں جس کا مادہ پہلے پہنچ جاتا ہے بچہ اس کی اور اس کے خاندان کی شکل و صورت اختیا ر کرتا ہے اور پھر جس کا مادہ غالب یا زیادہ ہوتا ہے، اس پر بچے کی جنس کا انحصار ہوتا ہے۔ یہ بات بھی مبنی بر حقیقت ہے کہ رحم مادر میں بچے کی بناوٹ کے بھی کئی ایک مراحل ہیں جن کی تفصیل درج ذیل ہے: نطفۃ امشاج: ۴۰ دن تک وہ جما ہوا خون (علقۃ) ۴۰ دن تک پھر گوشت کا لوتھڑا (مضغہ) ۴۰ دن تک، اس کے بعد فرشتے کے ذریعے اس میں روح پھونک دی جاتی ہے اور نر و مادہ، نیک و بد ہونا اور اس کی موت و رزق کو لکھ دیا جاتا ہے۔ جیسا کہ درج ذیل حدیث میں اس کی وضاحت ہوئی ہے: حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ماں کے پیٹ میں تمہاری خلقت چالیس روز تک نطفہ کی صورت میں جمع کی جاتی ہے۔ پھر وہ اتنے ہی دن جما ہوا خون بن جاتا ہے، اس کے بعد وہ اتنے ہی دن ایک لوتھڑے کی شک اختیار کر لیتا ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ فرشتے کو اس کے متعلق چار باتوں کا حکم دیتا ہے کہ اس کا عمل و کردار، اس کا رزق، اس کی مقررہ مدت اور نیک و بد ہونا لکھ دے۔ اس کے بعد اس میں روح پھونک دی جاتی ہے۔‘‘[3] یہ سب واضح رہے کہ عربی قواعد کے لحاظ سے ’’یعلم ما فی الارحام‘‘ کا تعلق رحم مادر میں جنین کے متعلق روح
[1] لقمان: ۳۴۔ [2] بخاری، التفسیر:۴۶۲۷۔ [3] بخاری، بداء الخلق:۳۲۰۸۔