کتاب: فتاویٰ اصحاب الحدیث(جلد 5) - صفحہ 566
جواب: بلاشبہ ایام کے متعلق عورتوں کی مشکلات ایک ایسے سمندر کی طرح ہیں جس کا کوئی کنارہ نہ ہو، تاہم اس طرح کی مشکلات روز اول ہی سے خواتین کو آتی رہی ہیں، اس لیے پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔ شریعت میں اس کا حل موجود ہے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا بیان ہے کہ ہم حج کے ارادہ سے عازم مکہ ہوئے، جب ہم صرف مقام پر پہنچے تو مجھے ایام آ گئے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس آئے تو میں شدت افسوس سے رو رہی تھی۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’یہ تو وہ چیز ہے جسے اللہ تعالیٰ نے بنات آدم پر لکھ دیا ہے۔ تم طواف بیت اللہ کے علاوہ حج کے تمام اعمال ادا کرتی رہو۔‘‘[1]
چنانچہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے ایام سے فراغت کے بعد طواف افاضہ کر لیا اور جاتے وقت عمرہ بھی ادا کیا جیسا کہ دیگر احادیث میں اس کی صراحت موجود ہے۔[2]
اسی طرح روانگی کے موقع پر طواف وداع سے قبل حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا کو یہ عارضہ پیش آ گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: ’’کیا اس نے طواف افاضہ نہیں کیا؟‘‘
جواب دیا گیا کہ انہوں نے طواف افاضہ تو کر لیا ہے، آپ نے فرمایا کہ ان کے لیے طواف وداع ضروری نہیں، اسے ہمارے ساتھ مدینہ روانہ ہوناچاہیے۔‘‘[3]
یعنی حائضہ عورت سے طواف وداع ساقط ہے۔
ہمارے رحجان کے مطابق خون حیض کا خروج ایک طبعی معاملہ ہے، اسے روکنا کئی ایک جسمانی عوارض کا پیش خیمہ ہو سکتا ہے اور اس کے منفی اثرات عورت کے لیے انتہائی نقصان دہ ہیں۔ہمارے علم کے مطابق عورتوں کے دماغی امراض خون حیض کی بندش کی بناء پر ہوتے ہیں، اس لیے خواتین کو چاہیے کہ وہ اللہ کے فیصلے پر راضی رہیں، صبر و استقامت سے کام لیں، امید ہے کہ اللہ تعالیٰ انہیں اجر و ثواب سے محروم نہیں کرے گا۔ اگر کبھی ایسی ضرورت سے دوچار ہونا پڑے جہاں مانع حیض ادویات کے بغیر کوئی چارہ نہ ہو جیسا کہ سوال میں ذکر کیا گیا ہے تو درج ذیل تین شرطوں کے ساتھ انہیں استعمال کیا جا سکتا ہے۔
۱۔ جسمانی طور پر کسی نقصان کا اندیشہ نہ ہو کیوں کہ بلاوجہ اپنے جسم کو عوارض کے حوالے کرنا درست نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اس سے منع فرمایا ہے۔
۲۔ ایسی ادویات کا استعمال خاوند کی اجازت سے کرنا چاہیے کیوں کہ حصول اولاد خاوند کا حق ہے اور اس حق میں رکاوٹ پیدا کرنا شرعاً جائز نہیں۔
۳۔ ان کے استعمال میں شرعی ضرورت کا ہونا ضروری ہے جیسا کہ سوال میں ضرورت شرعی کا ذکر ہے۔
[1] بخاری، الحیض:۲۹۴۔
[2] بخاری، الحیض:۳۱۶۔
[3] بخاری، الحیض:۳۲۸۔