کتاب: فتاویٰ اصحاب الحدیث(جلد 4) - صفحہ 85
ہوں گی، قرآن و حدیث کے مطابق اس کی وضاحت کریں۔ جواب: شعور گم ہونے کی صورت میں انسان کے ذمے مالی حقوق ساقط نہیں ہو تے لیکن بد نی عبادات مثلاً نماز اور روزہ وغیرہ ساقط ہو جا تا ہے البتہ ہوش آنے کے بعد رمضان کے روزوں کی قضا واجب ہو گی لیکن نمازوں کی ادائیگی اس کے ذمے نہیں ہے کیونکہ یہ سوئے ہوئے شخص کی طرح نہیں ہے کہ وہ جب بیدار ہو تو فوت شدہ نمازوں کو ادا کرے۔ اس لیے کہ سوئے ہوئے شخص میں ادراک ہو تا ہے اگر اسے بیدار کیا جائے تو وہ بیدار ہو سکتا ہے لیکن بے ہوشی میں مبتلا انسان کو اگر بیدار کیا جائے تو وہ بیدار نہیں ہو سکتا ، بے ہو ش انسان کی فوت شدہ نمازوں کے متعلق اہل علم کے دو اقوال ہیں : 1 جمہور اہل علم کا موقف ہے کہ بے ہوشی کے دوران رہ جانے والی نمازوں کی قضا اس کے ذمے نہیں ہے ، چنانچہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ پر ایک رات بے ہوشی طاری رہی تو انھوں نے اس دوران فوت ہونے والی نمازوں کی قضا نہیں دی تھی۔[1] 2 کچھ اہل علم کا موقف ہے کہ بے ہوش آدمی اپنی فوت شدہ نمازیں ادا کر نے کا پابند ہے وہ اس سلسلہ میں حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کا عمل پیش کر تے ہیں کہ ان پر ایک دن اور ایک رات بے ہوشی طاری رہی تو انھوں نے ہوش میں آنے کے بعد فوت ہونے والی نمازوں کی قضا دی تھی۔[2] ہمارے رجحان کے مطابق جمہور اہلِ علم کا موقف صحیح ہے جس کی ہم نے پہلے ہی وضاحت کر دی ہے۔ (واللہ اعلم) با جماعت نماز کی ادائیگی سوال: کیا نماز کی ادائیگی با جماعت ضروری ہے یا اسے گھر میں بھی ادا کیا جا سکتا ہے، اس سلسلہ میں واضح احکام کیا ہیں؟ جواب: اگر کوئی شرعی عذر نہ ہو تو ہر اذان سننے والے مرد پر مسجد میں حاضر ہو کر نماز باجماعت ادا کر نا ضروری ہے، اس کے وجوب کے متعلق کتاب و سنت میں متعدد دلائل موجود ہیں ، چنانچہ ارشادی باری تعالیٰ ہے:’’تم رکوع کرنے والوں کے ساتھ رکوع کرو۔ ‘‘[3] (البقرۃ:۴۳) اس آیت میں رکوع ادا کرنے والوں کے ہمراہ نماز ادا کرنے کا حکم ہے اور امر وجوب کے لیے ہو تا ہے، چنانچہ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی صحیح میں ایک عنوان بایں الفاظ قائم کیا ہے :’’با جماعت نماز کے وجوب کا بیان‘‘[4] پھر انھوں نے اپنے موقف کی تائید میں امام حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ کا قول پیش کیا ہے کہ ’’اگر کسی کی والدہ اس پر شفقت کر تے ہوئے یا کسی خطرہ کے پیش نظر با جماعت نماز عشا پڑھنے سے روکے تو وہ اپنی والدہ کی بات نہ مانے۔‘‘ اس کے بعد امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے اس سلسلہ میں متعدد احادیث پیش کی ہیں، چنانچہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے میں نے ارادہ کیا کہ چند نو جوانوں کو لکڑیاں جمع کرنے کا حکم دوں، پھر نماز کے لیے اذان دینے کا حکم دوں، اس [1] مصنف عبد الرزاق،ص۴۷۹،ج۲۔ [2] مصنف عبد الرزاق:ص ۴۷۹،ج۲۔ [3] البقرۃ:۴۳۔ [4] صحیح بخاری، الاذان باب نمبر ۲۹۔