کتاب: فتاویٰ اصحاب الحدیث(جلد 4) - صفحہ 57
آلودہ کپڑے کو دھویا جائے گا۔ [1] اس کے علاوہ دیگر احادیث سے بھی یہی معلوم ہوتا ہے کہ لڑکے کے پیشاب پر چھینٹے مارے جائیں اور لڑکی کے پیشاب کو دھویا جائے گا، لیکن اس کا قطعاً یہ مطلب نہیں کہ شیرخوار بچے کا پیشاب پلید نہیں، بچی اور بچے کے پیشاب کی نجاست کے متعلق دو رائے نہیں ہیں۔ البتہ شریعت نے جس کپڑے کو پیشاب لگ جائے اس کے پاک کرنے کے متعلق بچے اور بچی کے پیشاب میں فرق ضرور رکھا ہے۔ جیسا کہ درج بالا احادیث میں اس امر کی صراحت ہے ، لیکن اس تفریق میں کیا حکمت کارفرما ہے اس کے متعلق احادیث خاموش ہیں البتہ شارحین حدیث نے اپنے اپنے ذوق کے مطابق اس کی حکمت بیان کی ہے، چنانچہ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:’’ لڑکے کا پیشاب پانی اور مٹی سے ہے اور لڑکی کا پیشاب گوشت اور خون سے ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے جب آدم علیہ السلام کو پیدا کیا تو انہیں پانی اور مٹی سے پیدا کیا اور حضرت حوا علیہا السلام ان کی چھوٹی پسلی سے پیدا ہوئی ، گویا لڑکے کا پیشاب پانی اور مٹی سے وجود میں آیا جس سے آدم علیہ السلام بنے تھے اور لڑکی کا پیشاب خون اور گوشت سے پیدا ہوا جس سے حوا علیہا السلام کی تخلیق ہوئی تھی۔ [2] علامہ ابن قیم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کے تین اسباب بیان کئے ہیں ، جن کی تفصیل حسب ذیل ہیں: ٭بچے کا پیشاب ایک جگہ اکٹھا نہیں گرتا بلکہ وہ بکھر جاتا ہے اور یہ بات طے شدہ ہے کہ اگر زہریلا مواد زیادہ جگہ پر پھیلا دیا جائے تو اس کے زہریلے اثرات کم ہو جاتے ہیں جبکہ بچی کا پیشاب ایک ہی جگہ گرتا ہے اور وہ زہریلے اثرات کے اعتبار سے زیادہ خطرناک ہوتا ہے لہٰذا اسے دھو کر اس کے مضر اثرات سے بچا جا سکتا ہے۔ ٭بچے کے پیشاب میں حرارت زیادہ اور بچی کے پیشاب میں رطوبت کی کثرت ہوتی ہے، حرارت کی وجہ سے بچے کے پیشاب کی بد بو کم ہو تی ہے لہٰذا اس پر چھینٹے مارے جاتے ہیں جبکہ رطوبت کی وجہ سے اس کی بدبو میں اضافہ ہوجاتا ہے اس لئے اسے دھویا جاتاہے۔[3] ہم ان اسباب ووجوہ پرتبصرہ کرنے کے بجائے جدید طب کی روشنی میں اس کا جائزہ لیتے ہیں تو ہم اس نتیجہ پر پہنچتے ہیں کہ بچے اور بچی کی جسمانی ساخت اور جنسی اعضاء کی بناوٹ بہت مختلف ہے، اس بناء پر پیشاب کا نظام تولید اور اس کا نظام اخراج بھی مختلف ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انسانی جسم میں ایک ایسا نظام بنایا ہےکہ وہ جو کچھ کھاتا پتیا ہے قدرتی طریقوں سے چھانا جاتا ہے پھر خوراک میں موجود مفید اجزاء کی ایک بڑی مقدار جزو بدن بن جاتی ہے اور غیر مفید یا نقصان دہ اجزاء الگ ہو کر باہر نکل جاتے ہیں، پھر نقصان دہ مائع اجزاء مثانے میں جمع ہو کر خارج ہوتے ہیں، طب جدید اس بات کو تسلیم کرتی ہے کہ مونث اپنے مثانے میں جمع شدہ مضر اجزاء کو پیشاب کی شکل میں ۷۵ فیصد حصہ خارج کرتی ہے اور خارج کر کے ایک ہی جگہ پر گرا دیتی ہے جس سے اس جگہ پر نقصان دہ خودرو جراثیم کی نشوو نما کا مددگار ماحول پیدا ہو جاتا ہے، اس لئے اسے غیر مدد گار ماحول بنانے کےلئے دھونا ضروری ہو جاتا [1] سنن أبي داؤد ، الطھارۃ: ۳۷۶۔ [2] ابن ماجہ، الطھارۃ تحت ح ۵۲۵۔ [3] اعلام الموقعین ص ۴۶ج۲۔