کتاب: فتاویٰ اصحاب الحدیث(جلد 4) - صفحہ 478
’’ جب کوئی شخص رمضان میں بیمار ہوا اور پھر فوت ہو گیا لیکن رمضان کے روزے نہ رکھ سکا تو اس کی طرف سے کھانا کھلا دیا جائے اس پر قضا نہیں، اگر اس نے نذر مانی تھی تو اس کا وارث قضا دے۔ ‘‘[1] امام ابو داؤد رحمۃ اللہ علیہ نے امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ کے حوالے سے یہی بات نقل کی ہے۔ [2] بہر حال حیلہ اسقاط ایک ناجائز عمل ہے، اس سے اجتناب کرنا چاہیے۔ مرنے کے بعد صدقہ و خیرات کرنے سے گناہوں کے معاف ہونے کی امید کی جا سکتی ہے، اس کی طر ف سے نماز پڑھنے یا روزہ رکھنے کی قطعاً کوئی ضرورت ہے اور نہ ہی ایسا کرنا جائز ہے۔ ( واللہ اعلم) حیوانات کے خوبصورت مجسمے سوال:ہمارے ہاں اکثر یہ ہوتا ہے کہ مختلف دھاتوں سے حیوانات کے مجسمے بنا کر انہیں پالش اور رنگ روغن کر کے اپنے گھروں ، گاڑیوں میں لٹکایا جاتا ہے ، اس سے مراد صرف خوبصورتی اور زیب و زینت ہوتا ہے، اس عمل کی شرعی حیثیت کیا ہے؟ جواب: عربی زبان میں اس قسم کے مجسمے کو تماثیل کہا جاتا ہے ، یہ تماثیل اور مجسمے شرک کا راستہ ہیں، اس لئے شریعت نے اسے بند کیا ہے۔ لوگ اپنے لیڈروں اور محبوب لوگوں کے مختلف چیزوں سے مجسمے بنا کر بڑے بڑے راستوں اور چوکوں میں نصب کرتے ہیں۔ اسی طرح مختلف دھاتوں سے حیوانات کے مجسمے بنا کر ڈرائنگ روم یا گاڑی میں سجا دیتے ہیں ، چونکہ شرک کے لئے یہ ایک چور دروازہ ہے اس لئے شریعت نے اس سے منع فرمایا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ فرشتے اس گھر میں نہیں جاتے جس میں کتا اور مجسمے پڑے ہوں۔‘‘ [3] حضرت نوح علیہ السلام کی قوم بھی ابتدائی طور پر اسی قسم کے مجسموں کی محبت میں گرفتار تھی ، کچھ دیر بعد وہ اللہ کے مقابلہ میں انکی عبادت کرنے لگے، نوح علیہ السلام نے اس عمل کی پرزور انداز میں تردید فرمائی۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے متعلق تو قرآن کی صراحت ہے کہ انہوں نے اپنی قوم سے فرمایا: ’’ یہ مورتیاں اور مجسمے کیا ہیں جن کے سامنے تم بندگی کے لئے بیٹھے رہتے ہو؟ ‘‘ [4] بہر حال ہمارے ہاں بڑے بڑے لیڈروں کے مجسمے بنا کر چوراہوں میں انہیں نصب کیا جاتا ہے بعض اوقات تو پریڈ کے ذریعے انہیں’’سلامی‘‘ بھی دی جاتی ہے۔ اسی طرح مختلف جانوروں اور حیوانات کی مورتیاں بنا کر انہیں پالش اور روغن کر کے اپنی گاڑیوں اور گھروں کی زینت بنایا جاتا ہے ۔ شریعت کی نظر میں ایسا کرنا ناجائز اور حرام ہے۔ چنانچہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے حضرت ابو ہیاج اسدی کو ایک مہم پر بھیجتے وقت فرمایا کہ میں تمہیں اس کام کے لئے بھیج رہا ہوں جس کے لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بھیجا تھا کہ کسی مورتی اور مجسمے کو نہ چھوڑوں مگر اسے مٹا ڈالوں ۔‘‘ [5] صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا عمل تو یہ ہے جو اس حدیث میں بیان ہوا ہے لیکن ہم ان سے محبت کا دعویٰ کرنے کے باوجود اس قسم کی بیماریوں میں مبتلا ہیں۔ ایک مسلمان کی شان کے خلاف ہے کہ اس قسم کی موتیوں کو اپنے گھروں یا گاڑیوں میں آویزاں کرے۔ [1] ابو داود ، الصیام : ۲۴۰۱۔ [2] ابو داود ، الصیام : ۲۴۰۰۔ [3] صحیح بخاری ، بدء الخلق : ۳۲۲۵۔ [4] الانبیاء : ۵۲۔ [5] صحیح مسلم ، الجنائز: ۹۶۹۔