کتاب: فتاویٰ اصحاب الحدیث(جلد 4) - صفحہ 470
ہے ۔ ہم دیکھتے ہیں کہ ماہ رمضان کے آتے ہی سفیر حضرات کا ریلا شہروں اور دیہاتوں کا رخ کر لیتا ہے جو مختلف مدارس کے لئے چندہ اکٹھا کرنے میں بھاگ دوڑ کرتے ہیں۔ بعض اوقات تو یہ حضرات اس سلسلہ میں اپنی عزت نفس اور خود داری کو بھی مجروح کر دیتے ہیں، اگرچہ مرکز اہل حدیث ۱۰۶رادی روڈ نے اس ریلے کے سامنے بند باندھنے کی بھر پور اور کامیاب کوشش کی ہے لیکن پھر بھی کچھ لوگ اس مضبوط بند کو عبور کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔ اس میں شک نہیں کہ ابتدائی طور پر ایک مسجد یا مدرسہ ہوتا ہے اور عمارت بننے کے بعد اسے جامعہ کا درجہ دے دیا جاتا ہے پھر بلند و بالا عمارت کے قیام کے بعد اسے ’’ مرکز‘‘ سے موسوم کر دیا جاتا ہے۔ حالانکہ عربی زبان میں جامعہ یونیورسٹی کو کہتے ہیں جس کے زیر نگرانی متعدد شعبہ جات ہوتے ہیں، پھر مرکز تو اس سے بھی بڑا ہوتا ہے۔ ہمارے نزدیک ایسا کرنا بدترین خیانت ہےکہ جس مدرسہ میں چند بچے اور بچیاں تعلیم حاصل کرتے ہیں اسے جامعہ یا مرکز سے تعبیرکیا جائے۔کسی منچلے نے اس کی وضاحت یوں کی تھی کہ ایسے مدارس کو جامعات اس لئے کہتے ہیں کہ وہ چھوٹے بچے اور بچیوں کو اپنے اندر جمع رکھتے ہیں : لا نھا تجمع البنین والبنات، اس سلسلہ میں مرکز اہل حدیث ۱۰۶ راوی روڑ کو آگے بڑھ کر اہل حدیث کے مدارس و مساجد کی جماعتی درجہ بندی کر دینی چاہیے۔ اگرچہ وفاقہ المدارس السلفیہ نے اس سلسلہ میں کامیاب کوشش کی ہے لیکن ابھی کام باقی ہے۔ ایسے مدارس کی سطح پر حوصلہ شکنی ہونی چاہیے جو مدرسہ ہونے کے باوجود خود کو جامعہ یا مرکز کا نام دیئے ہوئے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کے ذمہ داران کو ہدایت دے اور وہ خود ہی اس کی اصلاح کر لیں تو بہتر ہے ۔ بالخصوص لفظ مسجد جامع ہے، روز بروز توسیع کے باوجود مسجد حرام، مسجد نبوی مسجد اقصیٰ مساجد ہی کہلاتی ہیں اور قرآن پاک نے انہیں مساجد سے ہی تعبیر کیا ہے۔ والدہ کا نارض فوت ہونا سوال:میں بچپن میں اپنی والدہ سے لڑتی جھگڑتی رہتی تھی، جب وہ فوت ہوئی تو مجھ سے ناراض تھی ، مجھے اس بات کا بہت افسوس رہتا ہے، اب مجھے اس گناہ کی تلافی کے لئے کیا کرنا چاہیے۔ جواب: بچپن میں اکثر ایسا ہو جاتا ہے کہ بچے اپنے والدین سے لڑتے جھگڑتے رہتے ہیں ، کیونکہ اس عمر میں بچوں کو شعور نہیں ہوتا، وہ کم عمری کی وجہ سے کم عقلی اور جہالت کا شکار رہتے ہیں ۔ امید ہے کہ اس عمر میں ایسی کوتاہی قابل مؤاخذہ نہیں ہوگی۔ ہاں صاحب شعور ہونے کے بعد والدین کو ناراض کرنا بہت بڑا جرم اور گناہ ہے۔ ماؤں کے متعلق خصوصی طور پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے کہ ماں کی نافرمانی سے اجتناب کیا جائے۔ اگر والدہ ناراض فوت ہوئی تو اس کے لئے دو کام کرنے سے اس گناہ کی تلافی ہو سکتی ہے: 1 اللہ تعالیٰ سے اس گناہ کی معافی طلب کی جائے اور اس کے حضور توبہ و استغفار کا نذرانہ پیش کیا جائے ، توبہ کرنے سے اللہ تعالیٰ بڑے بڑے گناہ معاف کر دیتا ہے۔امید ہے توبہ کرنے سے اللہ تعالیٰ یہ گناہ بھی معاف کرے گا۔