کتاب: فتاویٰ اصحاب الحدیث(جلد 4) - صفحہ 466
جواب: والدین کے لئے ضروری ہے کہ جب ان کے ہاں بچے کی پیدائش ہو تو با معنی ، خوبصورت اور کسی اسلامی نام کا انتخاب کریں۔ نام کا شخصیت پر اثر ہوتا ہے اس لئے نام کے سلسلہ میں درج ذیل اقسام کے ناموں سے اجتناب کیا جائے: ٭ جو انتہائی قبیح اور بُرا ہو،جس سے انسان کی عزت پر حرف آئے اور وہ اپنے نام کی وجہ سے لوگوں کے استہزاء کا نشانہ بنا رہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بُرے نام تبدیل کر دیتے تھے۔[1] مثلاً آپ نے ایک لڑکی عاصیہ کا نام جمیلہ رکھا تھا۔[2] ٭ ایسے نام جن سے نحوست اور بد شگونی کے معانی ظاہر ہوتےہیں مثلاً ’’ حزن ‘‘ نام رکھنا۔ اس کا معنی غم اور پریشانی ہے۔ ٭ ایسے ناموں سے بھی اجتناب کیا جائے جو اللہ رب العزت کے لئے خاص ہیں، مثلاً الرحمٰن ، الخالق، الرازق وغیرہ ، ان کے آغاز میں لفظ ’’ عبد ‘‘ لگا کر رکھے جا سکتےہیں۔ ٭ ایسے نام بھی نہیں رکھنے چاہئیں جن میں لفظ عبد کو غیر اللہ کی طرف منسوب کیا گیا ہو ، مثلاً عبد الرسول ، عبد العزی اور عبد الکعبہ وغیرہ۔ ٭ ایسے ناموں سے بھی پرہیز کیا جائے جن کے رکھنے سے کفار کے ساتھ مشابہت ہوتی ہو یا بد کردار لوگوں کے نام ہوں، مثلاً قیصر ، کسریٰ وغیرہ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ دو نام اللہ تعالیٰ کو بہت پسند ہیں یعنی عبد اللہ اور عبدالرحمٰن ۔[3] یہ نام اس لئے پسند ہیں کہ ان میں اللہ کی عبودیت کا اظہار ہے جس کے لئے انسان کو پیدا کیا گیا ہے ۔ دانیال حضرات انبیاء میں سے ایک نبی کا نام ہے ، شرعی طور پر اس میں کوئی قباحت نہیں۔ یہ وہی نبی ہیں جن کے بے جان جسم سے جاہل لوگ تبرک حاصل کرتے تھے، جب تستر فتح ہوا تو حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے یہ منظر بچشم خود دیکھا اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو لکھا، آپ نے جواب دیا کہ دن کے وقت تیرہ قبریں کھود کر رات کے وقت انہیں کسی قبر میں دفن کر دیں اور اس کے ساتھ باقی قبروں کو بھی تیار کر دیں تاکہ ان کی قبر کا لوگوں کو پتہ نہ چل سکے۔[4] بہرحال دانیال ایک نبی کا نام ہے اور یہ نام کسی بھی بچے کا رکھا جا سکتاہے تاکہ مستقبل میں اس نبی کی سیرت کی جھلک بچے میں نظر آ سکے۔ ( واللہ اعلم) الفاظ حدیث کی وضاحت سوال:مختلف احادیث میں درج ذیل معاملات سے منع کیا گیا ہے، ان کی وضاحت کر دیں۔ مہر البغی ، حلوان الکاھن ، عسب الفحل ، قفیز الطحان....؟ جواب: سوال میں ذکر کردہ الفاظ کی وضاحت مع حدیث درج ذیل ہے: [1] ترمذی ، الادب : ۲۸۳۹۔ [2] صحیح مسلم، الآداب : ۲۱۳۹۔ [3] صحیح مسلم، الآداب : ۲۱۳۲۔ [4] فتاویٰ ابن تیمیہ ص ۱۵۴ج۱۵۔