کتاب: فتاویٰ اصحاب الحدیث(جلد 4) - صفحہ 460
اسی طرح حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ سونا اور ریشم میری امت کی عورتوں کے لئے حلال کیا گیا ہے جبکہ مردوں کے لئے حرام ہے۔ ‘‘ [1] امام ابن ماجہ رحمۃ اللہ علیہ نے اس قسم کی احادیث پر بایں الفاظ عنوان قائم کیاہے: ’’ عورتوں کے لئے ریشم اور سونا پہننا‘‘ [2] مذکورہ احادیث و آثار کے پیش نظر عورتوں کے لئے سونے کے زیورات زیب تن کرنا جائز ہے لیکن ہمارے رجحان کے مطابق اس سلسلہ میں میانہ روی اختیار کی جائے کیونکہ زیادہ زیورات پہننے سے فخر و تکبر کا اظہار ہوتا ہے اور اس سے غرباء کا دل بھی دُکھتا ہے ، اس لئے زیورات کی بہتات اور کثرت سے اجتناب کرنا چاہیے۔ ( واللہ اعلم) گھر میں موجود کیڑے مکوڑوں کو جلانا سوال:ہمارے گھر میں چیونٹیوں کے بہت بِل ہیں، کیا انہیں آگ سے جلانا جائز ہے اگر ایسا کرنا جائز ہیں تو ان سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لئے کیا کرنا چاہیے؟ جواب: گھر میں موجود کیڑے مکوڑے اگر تکلیف کا باعث ہوں مثلاً وہ کھانے پینے کی چیزوں میں داخل ہوں یا گھرکے اشیاء کو خراب کریں تو انہیں مارا جا سکتا ہے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ جانوروں کو ’’فواسق‘‘ قرار دیا ہے اور انہیں حل و حرم ہر جگہ قتل کرنے کا حکم دیا ہے۔ [3] اسی طرح دیگر کیڑے مکوڑے جو ایذاء کا باعث ہوں، انہیں مارا جا سکتا ہے ، لیکن مارنے کے لئے کیڑے مار ادویات کا استعمال کیا جائے۔ اس کے لئے بازار سے پاؤڈر اور سپرے مل جاتی ہیں انہیں استعمال کیا جا سکتا ہے لیکن آگ کے ذریعے انہیں ختم کرنا شرعاً جائز نہیں، اس کی ممانعت ہے۔ اس بناء پر گھر میں نکلنے والی چیونٹیاں اگر ایذاء کا باعث ہوں تو جراثیم کش ادویات سے انہیں ختم کیا جا سکتا ہے، اس کے لئے کسی طور بھی آگ استعمال نہ کی جائے۔ ( واللہ اعلم) مشکوک کمائی سے تیار کردہ کھانا سوال:میرے ایک دوست تجارت پیشہ ہیں، لیکن میرے خیال کے مطابق وہ غلط کام کرتے ہیں جس کی وجہ سے اس کی کمائی حرام نہیں تو مشکوک ضرور ہے، کیا میں جب کبھی اس کے گھر جاؤں تو اس کے گھر سے کھا پی لیا کروں، قرآن و حدیث کی روشنی میں میری راہنمائی کریں؟ جواب: اگرکسی کی کمائی خاص حرام کی ہے تو اس کے ہاں کھانا پینا جائز نہیں لیکن مشکوک کمائی کے معاملہ میں اس قدر سختی کرنا مناسب نہیں۔ چنانچہ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے کسی نے دریافت کیا کہ میرا ایک پڑوسی ہے، میرے خیال کے مطابق اس کا مال خبیث یا حرام ہے ، وہ مجھے بعض اوقات کھانے کی دعوت دے دیتا ہے ، کیا مجھے دعوت قبول کرنی چاہیے؟ واضح رہے کہ اگر میں اس کے ہاں نہ جاؤں تو مجھے بہت تکلیف ہوتی ہے۔ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ’’ اس کے گھر جاؤ اور اس کی دعوت [1] سنن نسائی، الزنیۃ : ۵۱۵۱۔ [2] ابن ماجہ ، اللباس باب نمبر ۱۹۔ [3] صحیح بخاری ، جزاء الصید : ۱۸۲۹۔