کتاب: فتاویٰ اصحاب الحدیث(جلد 4) - صفحہ 448
٭ مریض کے کسی کپڑے کی پیمائش کی جاتی ہے، پھر اس کے کم و بیش ہونے کی صورت میں بیماری، آسیب یا سایہ وغیرہ سے مطلع کیا جاتا ہے۔ ٭ پانی دم کر کے پلایا جاتا ہے پھر اس کے ذائقہ کی تبدیلی کے بہانے مختلف بیماریوں یا جن بھوت کے اثر انداز ہونے کا دعویٰ کیا جاتا ہے۔ ٭ کسی پرندے یا طوطے وغیرہ سے پرچی نکالی جاتی ہے پھر اس پر تحریر شدہ عبارت کی روشنی میں متاثرہ لوگوں کی قسمت بتائی جاتی ہے، وغیرہ وغیرہ۔ ہمارے رجحان کے مطابق ان کے پاس جانے کی تین صورتیں ہیں: ٭ کاہن کے پاس جا کر اس سے مختلف سوالات کرنا مگر اس کی باتوں کی تصدیق نہ کرنا، ایسا کرنا بھی حرام اور ناجائز ہے، کیونکہ ایسا کرنا چالیس دن کی نمازوں سے محرومی کا باعث ہے جیسا کہ حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ جو شخص کسی کاہن کے پاس گیا اور اس سے کسی چیز کے متعلق سوال کیا تو اس کی چالیس رات کی نمازیں قبول نہیں ہوتیں۔‘‘[1] ٭ دوسری صورت میں یہ ہے کہ انسان کسی کاہن کے پاس جائے اورا س سے اپنی قسمت کے متعلق سوالات کرے پھر اسے سچا بھی خیال کرے، ایسا کرنا اللہ تعالیٰ کے ساتھ کفر کرنے کے مترادف ہےکیونکہ اس نے کاہن کے دعویٰ غیب دانی کی تصدیق کی ہے اور یہ کفر ہے۔ حدیث میں ہے: ’’ جو شخص کسی کاہن کے پاس جائے تو اس نے ان تعلیمات کا انکار کر دیا جو حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل کی گئی ہیں۔ ‘‘[2] ٭تیسری قسم یہ ہے کہ کوئی شخص کسی کاہن کے پاس جائے اور اس سے اس بنا پر سوال کرے کہ لوگوں سے اس کی بے بسی اور لا چارگی بیان کی جائے اور انہیں بتایا جائے کہ یہ شعبدہ بازی اور ملمع سازی ہے ، جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک مرتب ابن صیاد کےپاس گئے تھے اور اس سے سوالات بھی کئے تھے تو آپ نے فرمایا تھا کہ تو ذلیل و رسوا ہو جا، تو اپنی حیثیت سے آگے نہیں بڑھے گا۔ [3] اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔ بہر حال کاہن کے پاس جانا اس سے اپنی قسمت کے متعلق سوال کرنا پھر اسے سچا خیال کرنا بہت بڑا گناہ ہے ، انسان ایسا کرنے سے دائرہ اسلام سے خارج ہو جاتا ہے، اللہ تعالیٰ اس سے ہمیں محفوظ رکھے۔ قیامت کے دن کس نام سے پکار جائے گا؟ سوال:ایک حدیث بیان کی جاتی ہے کہ قیامت کے دن لوگوں کو ان کی ماؤں کے نام سے پکارا جائے گا تاکہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر پردہ پوشی کرے، اس حدیث کی وضاحت کریں؟ جواب: سوال میں ذکر کردہ حدیث موضوع اور خود ساختہ ہے جیساکہ علامہ سیوطی نے لکھا ہے کیونکہ اس کی سند میں [1] صحیح مسلم، السلام : ۲۲۳۰۔ [2] ابن ماجہ ، الطہارۃ : ۶۳۹۔ [3] صحیح بخاری ، الجنائز: ۱۳۵۴۔