کتاب: فتاویٰ اصحاب الحدیث(جلد 4) - صفحہ 429
سے گذارش کی ہے کہ ایسے سوالات دریافت کئے جائیں جن کا ہماری عملی زندگی سے تعلق ہے تاہم اس وضاحت کے بعد مذکورہ سوال کے متعلق ہماری گزارشات حسب ذیل ہیں:سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: فرشتوں کو نور سے پیدا کیا گیا ہے، ابلیس کو آگ کے تیز شعلے سے اور حضرت آدم کو اس مٹی سے پیدا کیا گیا جس کی حالت تمہارے سامنے بیان کی گی ہے۔[1] ایک روایت میں ابلیس کے بجائے جنات کی پیدائش کا ذکر ہے۔[2] اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ ابلیس، فرشتوں سے نہیں ہے بلکہ جنات سے ہے جنہیں شعلے والی آگ سے پیدا کیا گیا ہے، جو اہل علم کہتے ہیں کہ ابلیس، فرشتوں میں سے تھا، ان کے پاس کوئی صحیح اور صریح دلیل نہیں بلکہ اس آیت سے استنباط کرتے ہیں : ’’ جب ہم نے فرشتوں سے کہا کہ آدم کو سجدہ کرو تو ابلیس کے علاوہ سب فرشتوں نے انہیں سجدہ کیا ۔‘‘ [3] ان حضرات کا کہنا ہے کہ ابلیس فرشتوں میں سے تھا کیونکہ آدم کو سجدہ کرنے کا حکم بھی فرشتوں کو دیا گیا تھا، لیکن اس دلیل میں کوئی وزن نہیں ہے کیونکہ وہ اصل کے اعتبار سے تو جنات کی جنس سے تھا لیکن اپنی عبادت گزاری کی کثرت کی بنا پر فرشتوں میں گھلا ملا رہتا تھا چنانچہ ایک دوسرے مقام پر ارشاد باری تعالیٰ ہے: ’’ اور جب ہم نے فرشتوں کو حکم دیا کہ تم آدم کو سجدہ کرو تو ابلیس کے علاوہ سب نے سجدہ کیا یہ جنوں سے تھا، اس نے اپنے پروردگار کی نافرمانی کی۔ ‘‘ ( الکہف : ۵۰) اس آیت سے صراحت کے ساتھ معلوم ہوتا ہے کہ ابلیس جنوں سے تھا اورفرشتوں میں سے نہیں تھا اگر وہ فرشتوں سے ہوتا تو اسے حکم الٰہی سے سرتابی کی مجال ہی نہ ہوتی کیونکہ فرشتوں کے متعلق حکم الٰہی ہے: ’’ وہ اللہ کی نافرمانی نہیں کرتے بلکہ وہی کچھ کرتے ہیں جس کا انہیں حکم دیا جاناہے۔‘‘ [4] اس پر ایک اشکال ہے کہ جب وہ فرشتہ نہیں تھا تو پھر اللہ تعالیٰ کے حکم کا مخاطب ہی نہیں تھا کیونکہ حکمِ سجدہ کے مخاطب تو فرشتے تھے، اس کا جواب یہ ہے کہ جب وہ فرشتوں کے ساتھ ہی رہتا تھا تو ان کے ساتھ ہی حکم میں شامل تھا ، اس کے علاوہ اللہ تعالیٰ نے اسے خصوصی طور پر آدم کو سجدہ کرنے کا حکم دیا تھا جیسا کہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: ’’ جب میں نے تجھے حکم دیا تھا تو پھر تو نے سجدہ کیوں نہ کیا۔‘‘[5] بہر حال ہمارے رجحان کے مطابق ابلیس فرشتوں سے نہیں تھا بلکہ یہ جنات کی جنس سے تھا، ہمارے اس رجحان کی درج ذیل وجوہات ہیں: 1 قرآن مجید میں اس کی صراحت ہے، 2 حدیث میں ابلیس کی پیدائش آگ سے اور فرشتوں کی نور سے بیان کی گئی ہے۔ 3 فرشتوں کی اولاد نہیں ہوتی جبکہ ابلیس کی اولاد کا ذکر قرآن میں ہے۔ [6] 4 فرشتے اللہ کے حکم کی نافرمانی نہیں کرتے جبکہ ابلیس نے اس کے حکم سے سرتابی کی۔ ( واللہ اعلم) [1] صحیح مسلم، الزھد : ۷۴۷۵۔ [2] کتاب التوحید لابن مندۃ ص ۲۰۸ج۱۔ [3] البقرۃ: ۳۴۔ [4] التحریم : ۶۔ [5] الاعراف: ۱۲۔ [6] الکہف: ۵۰۔