کتاب: فتاویٰ اصحاب الحدیث(جلد 4) - صفحہ 400
ہو تو خاوند کے حکم کو ترجیح ہو گی۔ ( واللہ اعلم) موبائل میں گھنٹی کے بجائے قرآنی آیات کی آواز سوال:ہمارے ہاں کچھ موبائل ایسے ہیں کہ جب فون دوسرے سے ملایا جاتا ہے تو گھنٹی کے بجائے قرآنی آیات پڑھنے کی آواز آتی ہے ، کیاموبائل میں قرآنی آیات داخل کی جا سکتی ہیں؟ جواب: موجودہ دور میں موبائل کی ایجاد انتہائی سود مند ہے، اس کا اہم فائدہ یہ ہے کہ انسان رابطے میں رہتا ہے، لیکن اس کے غلط استعمال نے ہمارے معاشرہ میں بہت سے مفاسد پھیلا دیئے ہیں۔ موبائل میں قرآنی آیات داخل کرنا درست نہیں کیونکہ اس سے درج ذیل مفاسد جنم لیتے ہیں: ٭ قرآن کریم کو ایک حقیر دنیوی مقصد کے لئے استعمال کیا جاتاہے۔ ٭ قرآن کریم ایک انقلابی کتاب ہے اور اس سے عملی طور پر معاشرہ میں صالح انقلاب مقصود ہے ، جبکہ موبائل میں انہیں داخل کرنا اس عظیم مقصد کے برعکس ہے۔ ٭ بعض اوقات آیات کو سننے کے بجائے انہیں درمیان میں ہی قطع کرنا پڑتا ہے جو کہ قرآن کریم کی انتہائی بے ادبی ہے۔ ٭ بعض اوقات انسان لیٹرین میں ہوتا ہے کہ اچانک موبائل میں قرآنی آیات نشر ہونا شروع ہو جاتی ہیں جو کہ قرآنی ادب و احترام کے منافی ہے۔ ٭ ہمارے اسلاف قرآ ن کریم کو دنیاوی اغراض و مقاصد کے لئے انتہائی ناپسند کرتے تھے۔ اس لئے ہمارے رجحان کے مطابق اپنے موبائل میں سادہ گھنٹی کی آواز ہی سیٹ کر لی جائے اور قرآن کے داخل کرنے سے اجتناب کرنا چاہیے۔ ( واللہ اعلم) خاوند کی حیثیت سے زیادہ کا مطالبہ سوال:میں ایک غریب آدمی ہوں اور محنت مزدوری سے اپنے اہل خانہ کا پیٹ پالتا ہوں لیکن بعض اوقات میری بیوی مالی حیثیت سے زیادہ کا مطالبہ کر دیتی ہے، ایسے حالات میں مجھے کیا کرنا چاہیے؟ جواب: شادی کے بعد خاوند کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی بیوی کے اخراجات برداشت کرے اور کھانے پینے، رہنے سہنے اور پہننے کی ضروریات کو پورا کرے ۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال ہوا کہ ہم پر بیوی کا کیا حق ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ جب تم خود کھاؤ تو اسے بھی کھلاؤ اور جب تم خود لباس پہنو تو اسے بھی پہناؤ۔ ‘‘[1] ایک دوسری حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ خبردار ! تم پر ان بیویوں کا حق ہے کہ ان کے ساتھ اچھا برتاؤ کر و اور انہیں کھانا پینا اور رہائش وغیرہ اچھے طریقے سے دو۔ ‘‘[2] [1] سنن أبي داؤد ، النکاح: ۲۱۴۲۔ [2] مسند أحمد ص ۴۲۶ ج۳۔