کتاب: فتاویٰ اصحاب الحدیث(جلد 4) - صفحہ 376
نے فرمایا: مجھے اس ذات کی قسم! جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، مجھے بھی اسی چیز نے نکالا جس نے تمہیں نکالا ہے۔ چلو، چنانچہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چل دیئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک انصاری کے پاس تشریف لائے لیکن اتفاق سے وہ گھر میں نہیں تھے، جب اس کی اہلیہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا تو انہیں خوش آمدید کہا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے فرمایا: فلاں کہاں ہے؟ اس نے عرض کیا وہ ہمارے لئے میٹھا پانی لینے گئے ہیں، اتنے میں وہ انصاری بھی آگئے ، جب اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے دونوں ساتھیوں کو دیکھا تو خوشی سے پکار اٹھا : الحمد للہ ! مہمانی کے لحاظ سے آج کا دن میرے لئے بہت ہی باعث عزت ہے۔ چنانچہ وہ شخص گیا اور باغ سے کھجوروں کا ایک خوشہ توڑ لایا جس میں کُچی، پکی اور عمدہ ہر قسم کی کھجوریں تھیں، اس نے عرض کیا: آپ انہیں تناول فرمائیں۔ [1] اس حدیث سے اتنا تو معلوم ہوتا ہے کہ کسی مجبوری کے وقت عورت کسی اجنبی سے بات کر سکتی ہے اور اسے جواب بھی دے سکتی ہے نیز وہ عورت ایسےاجنبی کو گھر میں بلا سکتی ہے اور اکرام و عزت کے ساتھ بٹھا سکتی ہے جس کے آنے سے خاوند راضی ہو، ایسا کرنا پردہ داری اوردینداری کے خلاف نہیں ہے، اسی طرح کے ایک دوسرے واقعہ سے بھی راہنمائی ملتی ہے۔ حضرت اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ جس وقت میری شادی حضرت زبیر رضی اللہ عنہ سے ہوئی تو اس وقت ہمارے گھر میں بہت غربت تھی، میں حضرت زبیر رضی اللہ عنہ کے گھوڑے کی خوراک کا خود بندوبست کرتی تھی اور مدینہ سے چھ میل دوراِن کے باغ سے کھجور کی گٹھلیاں اپنے سر پر اٹھا کر لاتی تھی، ایک دن میں آ رہی تھی کہ راستہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انصار کے چند لوگوں کے ہمراہ میرے سامنے آئے، انہوں نے مجھے بلایا اور مجھے اپنے پیچھے سوار کرنے کے لئے اپنی سواری کو بٹھایا لیکن مجھے حیا دامن گیر ہوا کہ میں اجنبی آدمیوں کے ساتھ سفر کروں پھر مجھے حضرت زبیر رضی اللہ عنہ اور ان کی غیرت کا بھی خیال آیا اور وہ اس سلسلہ میں بہت غیور شخص تھے، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا کہ مجھے شرم آ رہی ہے تو آپ وہاں سے چل دیئے، بہر حال میں اسی حالت میں پیدل چلتے چلتے اپنے گھر کو آ گئی اور حضرت زبیر رضی اللہ عنہ سے سارا واقعہ بیان کیا تو انہوں نے فرمایا: ’’ اللہ کی قسم! آپ کا اتنی دور سے سر پر گٹھلیاں اٹھا کر لانا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سوار ہونے سے زیادہ گراں تھا۔ ‘‘[2] اس واقعہ سے بھی پتہ چلتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں اس قسم کی مصنوعی پردہ داری کا رواج نہ تھا جو ہمارے معاشرہ میں در آئی ہے اور اس نے رشتہ داروں کو ایک دوسرے سے دور کر دیا ہے۔ خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جو حضرت اسماء رضی اللہ عنہا کے لئے غیر محرم تھے، اس کے باوجود آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اپنے پیچھے بٹھانے کی پیشکش کی۔ حضرت اسماء رضی اللہ عنہا کی حیاداری اپنی جگہ ہے لیکن حضرت زبیر رضی اللہ عنہ کا جواب کہ تیرا تنے دور سے اپنے سر پر گٹھلیاں اٹھا کر لانا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سوار ہونے سے زیادہ گراں تھا۔ انہوں نے بھی دبے الفاظ میں حضرت اسماء رضی اللہ عنہا کی شرم و حیا کو اچھا خیال نہیں کیا، بہر حال خاوند کی عدم موجودگی میں گھر مہمان آجائے تو اس کی تکریم میں ہماری مروجہ حیاداری حائل نہیں ہونا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ نے پردے کے احکام بیان کرنے کے بعد فرمایا ہے: ’’ تمہارے اور ان کے دلوں کے لئے کامل پاکیزگی یہی ہے۔‘‘ [3] [1] صحیح مسلم، الاشربۃ : ۵۳۱۳۔ [2] صحیح البخاري ، النکاح : ۵۲۲۴۔ [3] الاحزاب : ۵۳۔