کتاب: فتاویٰ اصحاب الحدیث(جلد 4) - صفحہ 35
’’ہم تم سے نہ کوئی بدلہ چاہتے ہیں اور نہ ہی شکریہ کے روادار ہیں۔‘‘[1] ہم نے کچھ حضرات کی غلط فہمی دور کرنے کے لیے اس حقیقت کا اظہار کیا ہے وگرنہ اس کی بھی چنداں ضرورت نہ تھی ہم سوالات کا جواب دینے سے قبل خود سوالات کا جائزہ لیتے ہیں، آیا وہ مناسب و موزوں اور قابل جواب ہیں یا وہ نظر انداز کرنے کے لائق ہیں۔ ہم نے اپنے فتاویٰ کی پہلی تین جلدوں کے مقدمہ میں ایسے سوالات کی نشاندہی کی تھی جنہیں کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں ناپسندیدگی کی نظر سے دیکھا گیا ہے تاکہ سائلین آداب سوال سے آراستہ ہوں نیز حصول علم اور طلب حق کا سلیقہ اختیار کریں، اب ہم چند ایک ایسے سوالات کی اقسام تحریر کرتے ہیں جنہیں شریعت نے مستحسن قرار دیا ہے اور اچھی نظر سے دیکھا ہے، ہمیں قارئین سے امید ہے کہ وہ بھی اُسی قسم کے سوالات کرنے کی عادت اختیار کریں گے ۔ ٭…قرب الٰہی کا حصول: اللہ کا قرب حاصل کرنے کے لیے سوال کرنا بہت ہی مبارک عمل ہے، چنانچہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا کہ اگر مجھے لیلۃ القدر کا علم ہو جائے تو میں اس میں کیا دعا کروں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ دعا پڑھا کرو۔ ’’اَللّٰھُمَّ اِنَّکَ عَفُوٌ تُحِبُّ الْعَفْوَ فَاعْفُ عَنِّی‘‘[2] ’’اے اللہ! تو در گزر کرنے والا ہے اور در گزر کو پسند کرتاہے، مجھے بھی معاف کر دے۔‘‘ ٭…فہم قرآن:قرآن کریم کی کسی آیت کا معنی سمجھنے کے لیے سوال کرنا بھی حصول علم کا عظیم ذریعہ ہے چنانچہ جب یہ آیت نازل ہوئی ۔ ’’جو لوگ ایمان لائے اور اپنے ایمان کو ظلم سے آلودہ نہ کیاتو انہیں قیامت کے دن امن ملے گا اور وہی راہ راست پر ہیں۔‘‘[3] صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے ظلم کا عام مطلب سمجھا جس سے وہ پریشان ہو گئے پھر انھوں نے اس کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا’’ہم میں سے کون ایسا شخص ہے جس نے ظلم نہ کیا ہو۔‘‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا’’اس سے وہ ظلم مراد نہیں جو تم سمجھ رہے ہو بلکہ اس سے مراد شرک ہے جیسا کہ حضرت لقمان نے اپنے بیٹے سے کہا تھا’’یقیناً شرک بہت بڑا ظلم ہے۔‘‘ [4] اس سے صحابہ کرام کو اطمینان ہو گیا۔ [5] ٭…فہم حدیث:حدیث میں آنے والے کسی لفظ کا معنی سمجھنے کے لیے سوال کرنا جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک عورت آئی اور اس نے سوال کیا کہ حیض سے فراغت کے بعد غسل کیسے کیا جائے تو آپ نے فرمایا’’مشک لگا ہوا روئی کا ایک ٹکڑا لے کر اس کے ساتھ پاکی حاصل کرو، اس نے عرض کیا یا رسول اللہ!اس سے کیسے پاکی حاصل کروں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بار بار یہی کہتے رہے کہ اس سے پاکی کرو۔ بالآخر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حیا کی وجہ سے منہ دوسری طرف کر لیا تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بتایا کہ مشک [1] الدھر: ۹۔ [2] مسند امام احمد، ص ۱۷۱، ج۶۔ [3] الانعام: ۸۲۔ [4] لقمان: ۱۳۔ [5] بخاری، احادیث الانبیاء: ۳۳۶۰۔