کتاب: فتاویٰ اصحاب الحدیث(جلد 4) - صفحہ 340
دار و مدار نیتوں پر ہے ، ہر آدمی کے لئے وہی کچھ ہوتا ہے جو اس نے نیت کی۔ ‘‘[1] نکاح حلالہ بھی اس لئے حرام ہے کہ وہ پہلے خاوند کے لئے حلال کرنے کی نیت سے نکاح کیا جاتا ہے، اگرچہ نکاح کے وقت اس کا ذکر نہ کیا جائے تاہم اس کی گندی نیت کی وجہ سے ایسا نکاح حرام ہے۔ جس طرح حلالہ کی نیت نکاح کو فسخ کر دیتی ہے اسی طرح متعہ کی نیت بھی نکاح کو فسخ کر دیتی ہے۔ نیز یہ نکاح اس لئے بھی حرام ہے کہ اس میں بیوی اور اس کے خاندان کو دھوکہ دیا جاتا ہے جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس قسم کی دھوکہ دہی سے منع فرمایا ہے ، اگر عورت یا اس کے خاندان کو اس بات کا علم ہو جائے کہ یہ شخص ایک معینہ مدت تک کے لئے نکاح کرنا چاہتا ہے تو وہ اس کے لئے کبھی آمادہ نہیں ہوں گے ۔ کوئی شخص بھی اپنی بیٹی یا بہن کا نکاح اس شرط پر کرنے کے لئے تیار نہیں ہوتا ، خود نکاح کرنے والا بھی اس قسم کے نکاح کے لئے اپنی بیٹی یا بہن کا انتخاب نہیں کرتا۔ بہر حال اس قسم کے نکاح میں سنگین قسم کا دھوکہ اور فراڈ ہے، لہٰذا اس قسم کے تمام کام حرام اور ناجائز ہیں۔ ( واللہ اعلم)  مہر بیوی کا حق ہے سوال:ہمارے ہاں کچھ لوگ لڑکی کو ملنے والا حق مہر خود وصول کرکے استعمال کر لیتے ہیں، کیا ایسا کرنا جائز ہے، قرآن و حدیث کی رو سے اس کا جواب دیں؟ جواب: شریعت اسلامہ میں مہر بیوی کا خصوصی حق ہے اور یہ حق اسے ہی ملنا چاہیے، تاہم کچھ قبائل ایسے ہیں جو لڑکی کا مہر خود استعمال کرتے ہیں ، جو شرعاً ناجائز ہے ، ارشادِ باری تعالیٰ ہے: ’’ عورتوں کو ان کے مہر راضی خوشی ادا کرو۔‘‘[2] دور جاہلیت میں لوگ نکاح کے وقت لڑکی کا مہر خود لے لیتے اور اسے استعمال کر لیتے تھے، اللہ تعالیٰ نے اس کی روک تھام کے لئے مذکورہ بالا آیت نازل فرمائی ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں حضڑت عبد الرحمن بن عوف رحمہ اللہ نے ایک انصاری عورت سے شادی کی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسے کتنا مہر دیا ہے؟ انہوں نے عرض کیا ’’ ایک کھجور کی گٹھلی کے برابر سونا دیا ہے۔ ‘‘[3] اس حدیث سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ مہر عورت کا حق ہے اور عورت کو ہی دیا جاتا تھا البتہ اگر لڑکی ، اپنا حق کسی کو دے دیتی ہے تو اسے استعمال کرنے میں چنداں حرج نہیں ، وہ استعمال کرنے والا لڑکی کا والد ، بھائی یا خاوند ہی کیوں نہ ہو ، اسی طرح وہ لڑکی اپنے حق مہر سے کچھ معاف کر دے تو بھی جائز ہے، ارشادِ باری تعالیٰ ہے : ’’ عورتوں کو ان کے مہر راضی خوشی ادا کرو، ہاں اگر وہ اپنی خوشی سے کچھ مہر چھوڑ دیں تو شوق سے اسے خوش ہو کر کھاؤ ۔‘‘[4] بہر حال مہر ، لڑکی کا حق ہے اس کی اجازت کے بغیر کسی دوسرے کے لئے استعمال کرنا جائز نہیں۔ ذاتی مفاد کے لئے نکاح کرنا سوال:میں بیرون ملک میں زیرِ تعلیم ہوں، میں نے شادی الاؤنس لینے کے لئے ایک لڑکی سے نکاح کیا ہے لیکن میری [1] صحیح بخاری ، الوحی : ۱۔ [2] النساء : ۴۔ [3] صحیح بخاری ، النکاح : ۵۱۶۷۔ [4] النساء : ۴۔