کتاب: فتاویٰ اصحاب الحدیث(جلد 4) - صفحہ 34
مہاجرین اولین، انصار اور شیوخ قریش سے اس کے متعلق رائے طلب کی ، لیکن کسی بات پر اتفاق نہ ہو سکا بالآخر حضرت عبد الرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ سے مروی ایک حدیث کے مطابق فیصلہ ہوا۔ ٭مشاورت کی اہمیت و ضرورت و اہمیت کے پیش نظر بھی حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ اور پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فقہاء صحابہ کو مدینہ طیبہ میں سکونت رکھنے کا پابند کیا تھا۔ ٭شراب نوشی کے متعلق جب لوگ حد سے تجاوز کرنے لگے تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس کی روک تھام کے لیے صحابہ کرام سے مشورہ کیا کہ اس کے لیے کیا سزا تجویز کی جائے ۔[1] امام بخاری مجلس مشاورت کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے لکھتے ہیں: ’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد تقویٰ شعار حکمران جا ئز اور مباح معاملات میں امانت دار اہل علم سے مشاورت کرتے تھے تاکہ ان میں سے آسان تر صورت پر عمل کیا جا سکے ۔ ‘‘[2] لیکن افسوس کہ دور حاضر میں اس اس خوبصورت روایت نے دم توڑ دیا ہے ، آج ہمارے ہاں باہمی اختلا فات نے ایک بھیانک شکل اختیار کر رکھی ہے۔ غیر ضروری اور نادر فتویٰ چھوڑ کر اپنا فضول شوق پورا کیا جاتا ہے چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ ذو الحجہ کے مہینے میں بھینس کی قربانی پر طبع آزمائی کی جاتی ہے تو محرم کے مہینے میں یزید کی شخصیت کو نزع استخواں بنایا جاتا ہے کہ وہ جنتی ہے یا جہنمی، انا للہ و انا الیہ راجعون۔ ایک درد مندانہ اپیل ایسے حالات میں ہمارے اکابر، ذمہ داران اور اہل علم کا فرض ہے کہ وہ اس گھمبیر صورت حال کا جائزہ لیں اور سلف صالحین کی طرح مشاورت کا احیاء کرتے ہوئے سعودی عرب کی طرز پر ’’ھئیۃکبار علماء‘‘تشکیل دیں، پھر اس کے ذریعے امت کی تنظیم نو اور توحید صفوف کی کوشش کی جائے ، خاص طور پر ’’دار الافتاء‘‘ کو منظم کر کے اسکی حرمت و تقدیس کو بحال کریں، ہر کس و ناکس کی فتویٰ نویسی پر اپنی نوازشات کی بارش کرنے کے بجائے ایسے نا پختہ افراد کی حوصلہ شکنی کریں اور جماعت کرنا اھل مفتیوں کے چنگل سے آزاد کرائیں۔ ایسا کرنے سے شریعت کا وقار دلوں میں بیٹھے گا اور فتویٰ کی عظمت رفتہ بحال ہو گی نیز لا دین عناصر کے تمسخر و استھزاء سے بھی محفوظ ہو گا باذن اللہ تعالیٰ۔ قارئین کرام! ہم نے آپ کی دینی راہنمائی کے لیے اللہ کے فضل اور اس کی توفیق سے خود کو وقف کر رکھا ہے لیکن اس کے باوجود میں آب و گل سے بنا ہوا ایک انسان ہوں، میری دعوتی، گھریلو اور معاشرتی ضروریات ہیں اور مجھے جسمانی طور پر آرام کرنے کی بھی حاجت ہوتی ہے لہٰذا رابطہ قائم کرنے والوں سے گزارش ہے کہ وہ اس سلسلہ میں میرے ساتھ تعاون کرتے ہوئے اوقات کار کا خیال رکھیں۔ ، دوسری گزارش ہے کہ مسائل و احکام لکھنے اور زبانی طور پر سوالات کا جواب دینے کا مقصد اللہ تعالیٰ سے اجر حاصل کرنا ہے ، الحمد للہ اس کے بدلے نہ دنیاوی مفاد کی مجھے کوئی ضرورت ہے اور نہ ہی کسے سے کچھ وصول کرتا ہوں۔ [1] ترمذی، الحدود، ۱۴۴۳۔ [2] بخاری، الاعتصام: باب نمبر ۲۸۔