کتاب: فتاویٰ اصحاب الحدیث(جلد 4) - صفحہ 329
جواب: اس میں کوئی شک نہیں کہ جو رشتے خون اور ولادت سے حرام ہوتے ہیں وہ کسی عورت کا دودھ پینے سے بھی حرام ہو جاتے ہیں، جیسا کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ایک حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ رضاعت سے بھی وہ رشتے حرام ہو جاتے ہیں جو ولادت (خون) سے حرام ہوتے ہیں۔‘‘[1] لیکن یہ حرمت کتنا دودھ پینے سے ثابت ہوتی ہے اور کس عمر میں دودھ پیا جائے تو معتبر ہو گی؟ اس کے متعلق علمائے امت میں اختلاف ہے، ہمارے رجحان کے مطابق حرمت کے ثبوت کے لئے حسب ذیل دو شرائط کا پایا جانا ضروری ہے: 1 کم از کم پانچ مرتبہ دودھ پینے سے حرمت رضاعت ثابت ہو گی جیسا کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا بیان ہے: ’’ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں پہلے یہ حکم نازل کیا تھا کہ دس رضعات سے حرمت ثابت ہوتی ہے پھر اسے پانچ رضعات سے منسوخ کر دیا ۔‘‘ [2] رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ سہلہ بنت سہیل رضی اللہ عنہا سے فرمایا تھا کہ اس سالم کو اپنا دودھ پلادو، چنانچہ اس نے اس کو پانچ رضعے (پانچ بار ) دودھ پلادیا۔ اس طرح وہ اس کے رضاعی بیٹے کی طرح ہو گیا۔ [3] بلکہ ایک روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود اسے حکم دیا تھا کہ تو اسے پانچ مرتبہ دودھ پلا دے۔ [4] ایک رضعہ سے مراد یہ ہے کہ بچہ عورت کی چھاتی کو منہ میں لے اور اس سے دودھ چوسنا شروع کر دے، جبکہ تک وہ پستان کو منہ میں لے کر پیتا رہے گا یہ ایک رضعہ کہلائے گا خواہ یہ مدت طویل ہو یا قلیل ، اگر کسی عارضہ کی وجہ سے دودھ پینا چھوڑ دیا مثلاً سانس لینے کے لئے یا کسی اور وجہ سے چھوڑ کر دوسری طرف مشغول ہو گیا پھر جلد ہی دوبارہ دودھ پینا شروع کر دے تو یہ عارضی وقفہ غیر معتبر ہو گا اور اسے ایک مرتبہ پینا ہی شمار کیا جائے گا۔ اس طرح پانچ مرتبہ پینے سے حرمت ثابت ہو گی ، ایک دو دفعہ پینے سے حرمت ثابت نہیں ہو گی، جیسا کہ حدیث میں ہے:’’ ایک دفعہ اور دودفعہ دودھ چوسنے سے حرمت ثابت نہیں ہوتی۔‘‘ [5] بہر حال ایک دو دفعہ دودھ پینے سے حرمت ثابت نہیں ہو گی ، کم از کم پانچ مرتبہ دودھ پینا ضروری ہے جیسا کہ احادیث بالا سے بصراحت معلوم ہوتاہے۔ 2 دوسری شرط یہ ہے کہ دودھ پلانے کی مدت کے دوران دودھ پیا جائے اور دودھ پلانے کی مدت زیادہ سے زیادہ دو سال ہے، یعنی دو سال کے اندر اندر دودھ پیا جائے تو اس کا اعتبار کیا جائے گا جیسا کہ حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے مروی حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ صرف وہی رضاعت حرمت ثابت کرتی ہے جو انتڑیوں کو کھول دے اور دودھ چھڑانے کی مدت سے پہلے ہو۔ ‘‘[6] انتڑیوں کو کھول دے سے مراد یہ ہے کہ اس کی خوارک صرف دودھ ہو جس سے بچہ پروان چڑھے اور پرورش پائے چنانچہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ایک حدیث کے الفاظ ہیں: ’’ رضاعت اسی وقت معتبر ہے جب بھوک کے وقت دودھ پیا جائے۔‘‘[7] [1] صحیح بخاری ، النکاح : ۲۶۴۴۔ [2] ابو داود ، النکاح: ۲۰۶۲۔ [3] ابو داود ، النکاح : ۲۰۶۱۔ [4] مسند امام احمد ص ۲۰۱ج۶۔ [5] صحیح مسلم، الرضاع : ۱۴۵۰۔ [6] سنن ترمذی ، الرضاع: ۱۱۵۲۔ [7] صحیح بخاری ، النکاح : ۵۱۰۲۔