کتاب: فتاویٰ اصحاب الحدیث(جلد 4) - صفحہ 319
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات سے بھی یہی معلوم ہوتا ہے کہ نکاح میں ولی کا ہونا شرط ہے ، چنانچہ حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ ولی کے بغیر نکاح نہیں ہوتا ۔‘‘[1] سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاکہ جس عورت نے اپنے سر پرست کی اجازت کے بغیر نکاح کیا تو اس کا نکاح باطل ہے، آپ نے یہ کلمات تین مرتبہ دہرائے۔[2] شریعت نے نکاح کے لئے یہ شرط اس لئے عائد کی ہے کہ ولی ، عورت کے نفع و نقصان کو زیادہ سمجھتا ہے اور وہ اس کی خیر خواہی کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتا ، لیکن اگر ولی اپنی زیر سرپرست کا خیرخواہ نہ ہو بلکہ اسے اپنا مفاد پیش نظر ہو جیسا کہ صورت مسؤلہ میں ہے تو ایسے حالات میں وہ ولایت سے خود بخود محروم ہو جاتا ہے پھر ولایت کسی دوسرے قریبی رشتہ دار کی طرف منتقل ہو جاتی ہے، اگر کسی کا کوئی دوسرا سر پرست نہ ہو تو پھر حاکم وقت کی طرف ولایت منتقل ہو جائے گی جیسا کہ حدیث میں ہے: ’’ اگر اولیاء کا باہمی اختلاف ہو جائے تو پھر جس کا کوئی ولی نہ ہو اس کا ولی حکمران ہے۔‘‘[3] اگر حکمران سے بھی عدل و انصاف کی توقع نہ ہو جیسا کہ ہمارے ہاں عدالتوں میں ہوتا ہے تو پھر گاؤں یا شہر کا کوئی بھی شخص ولی بن سکتا ہے جسے اختیارات حاصل ہوں مثلاً قافلے کا امیر ، گاؤں کا نمبردار اور شہر کا چیئر مین وغیرہ ۔ چنانچہ شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں: ’’ اگر نکاح کے لئے ولی نہ ہو تو ایسے حالات میں ولایت نکاح اس شخص کی طرف منتقل ہو گی جسے نکاح کے علاوہ دوسرے معاملات میں کچھ اختیارات حاصل ہیں جیسے کہ گاؤں کا نمبر دار یا قافلے کا امیر وغیرہ ۔[4] صورت مسؤلہ میں ہم سائلہ کو یہ مشورہ دیتے ہیں کہ اگر حالات واقعی اسی طرح ہیں جیسا کہ سوال میں ذکر کئے گئے ہیں تو اپنے گاؤں یا شہر کے سرکردہ افراد پر مشتمل ایک کمیٹی کی سرپرستی میں اپنا نکاح کر لے، امید ہے کہ اللہ کے ہاں اسے کوئی مواخذہ نہیں ہو گا۔ ( واللہ اعلم) ایام حیض میں نکاح کرنا سوال:کیا عورت کا ایام حیض میں نکاح ہو سکتا ہے، اس کے متعلق کتاب و سنت میں کیا ہدایات ہیں؟ جواب: دورانِ حیض عورت سے نکاح ہو سکتا ہے کیونکہ عقد نکاح میں اصل اباحت ہے جبکہ حالت حیض میں نکاح کے حرام ہونے کی کوئی دلیل نہیں ہے لیکن نکاح کے بعد خاوند کو طہر تک اپنی بیوی کے پاس نہیں جانا چاہیے کیونکہ ممکن ہے وہ ایسا کام کر بیٹھے جس کی شرعاً اجازت نہیں ہے۔ بہر حال اسے طہر تک انتظار کرنا چاہیے البتہ ہم بستری کے علاوہ بیوی سے لطف اندوز ہونے میں چنداں حرج نہیں ہے۔ سوال:ایک لڑکی کا نکاح ایام حیض میں ہوا ، جبکہ گھر والوں کو اس کا علم بھی تھا، کیا شرعی طور پر اس حالت میں نکاح ہو جاتا ہے، کتاب و سنت کی روشنی میں فتویٰ دیں۔ [1] ابو داود، النکاح: ۲۰۸۵۔ [2] مسند امام احمد ص ۴۷ ج ۶۔ [3] سنن الترمذی، النکاح: ۱۱۰۲۔ [4] الاختیارات ص ۳۵۰۔