کتاب: فتاویٰ اصحاب الحدیث(جلد 4) - صفحہ 317
اس آیت کے پیش نظر بانجھ پن ایک غیر اختیاری امر ہے، اس میں انسانی عمل کو کوئی دخل نہیں ، البتہ بعض اوقات قابل علاج ہوتا ہے اور بعض اوقات ناقابل علاج ہوتا ہے، بہر حال صورت مسؤلہ میں چاہیے تھا کہ خاوند اپنی بیوی کا علاج کراتا۔ اگر بانجھ پن ناقابل علاج تھا تو حصول اولاد کے لئے دوسرے شادی کر لیتا، اس طرح اس کی بیوی میں یہ احساس پیدا نہ ہوتا کہ شاید معاشرہ میں میرے جیسی عورتوں کا کوئی مقام نہیں ہے یا انہیں دنیا میں کبھی کوئی سہارا نہیں مل سکے گا، ہم اس مقام پر یہ گزارش کرنا بھی ضروری خیال کرتے ہیں کہ والدین بچیوں کا نکاح کرتے وقت ذہنی ہم آہنگی کا ضرور خیال رکھا کریں ، صرف برادری کے رکھ رکھاؤ کے لئے اپنی بچیوں کو اپنے پندارنفس کی بھینٹ نہ چڑھایا کریں۔ صورتِ مسؤلہ میں ممکن ہے کہ ذہنی تفاوت ہی کار فرما ہو کیونکہ لڑکی اہل حدیث ہے اور خاوند تبلیغی حنفی ، بھلا ایک حنفی، اہل حدیث عورت کو کیسے قبول کر سکتا ہے،ا س پہلو پر بھی غور کرنا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں ایسے معاملات کو گہری بصیرت کے ساتھ حل کرنے کی توفیق دے۔ آمین! غیر مدخولہ پر عدتِ وفات ضروری ہے؟ سوال:ہماری بچی کا نکاح ہوا تھا ، ابھی رخصتی عمل میں نہیں آئی تھی کہ خاوند کسی حادثہ میں وفات پا گیا، ایسے حالات میں کیا بچی پر عدت وفات پوری کرنا ضروری ہے، کتاب و سنت کی روشنی میں وضاحت فرمائیں؟ جواب: عقد نکاح کے بعد عورت ، بیوی بن جاتی ہے ، اس پر وہی احکام لاگو ہوتے ہیں جو نکاح کے بعد ایک بیوی کے لئے ہوتے ہیں، نکاح کے بعد جس عورت کا خاوند فوت ہو جائے اس کے متعلق ارشاد باری تعالیٰ ہے: ’’تم میں سے جو لوگ فوت ہو جائیں اور بیویاں چھوڑ جائیں تو وہ عورتیں اپنے آپ کو چار ماہ دس دن عدت میں رکھیں۔‘‘[1] اس حکم میں وہ تمام عورتیں شامل ہیں جو عقد نکاح کے بعد بیویاں بن چکی ہیں، خواہ وہ ایسی بوڑھی عورت ہو جسے اب مردوں کی کوئی حاجت نہیں ، اسی طرح وہ بچی بھی اس حکم میں شامل ہے جو ابھی سن بلوغ کو نہیں پہنچی اور وہ لڑکی جو نکاح کے بعد ابھی اپنے خاوند کے پاس نہیں گئی ، الغرض یہ تمام عورتیں اس آیت کے عموم میں داخل ہیں ، صرف وہ عورت اس سے مستثنیٰ ہے جو خاوند کی وفات کے وقت حمل سے تھی، اس کی عدت وضع حمل ہے خواہ دوسرے دن بچہ پیدا ہو جائے یا آٹھ ماہ بعد وہ بچے کو جنم دے ، اس کی عدت وضع حمل ہے۔ صورت مسؤلہ میں عقد نکاح ہو چکا ہے لیکن رخصتی عمل میں نہیں آئی اور اس کا خاوند کسی حادثہ کی وجہ سے فوت ہو گیا ہے تو اس حالت میں بھی بچی کو عدت وفات گزارنا ضروری ہے جو چار ماہ دس دن ہے، ہاں اگر خاوند اس حالت میں طلاق دے دے تو اس کے ذمے عدت طلاق ضروری نہیں ہے لیکن اس پر عدت وفات کو قیاس نہیں کیا جا سکتا ۔ بہر حال صورت مسؤلہ میں بچی پر عدت وفات گزارنا ضروری ہے۔ ( واللہ اعلم) [1] البقرۃ: ۲۳۴۔