کتاب: فتاویٰ اصحاب الحدیث(جلد 4) - صفحہ 307
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت سہلہ رضی اللہ عنہا کو بھی یہی حکم دیا تھا کہ وہ سالم کو پانچ مرتبہ دودھ پلا دے تو وہ بیٹے کی جگہ ہو جائےگا۔[1] چنانچہ انہوں نے حضرت سالم کو پانچ مرتبہ دودھ پلایا تو وہ ان کے بیٹے کی جگہ ہو گیا۔[2] صورتِ مسؤلہ میں چچی کی شہادت کے مطابق مدت رضاعت میں بچے نے دو یا تین مرتبہ دودھ پیا ہے ، اس سے حرمت ثابت نہیں ہوتی، چنانچہ حدیث میں صراحت ہے کہ ایک دو مرتبہ چوسنے سے نکاح حرام نہیں ہوتا۔[3] مایوس کن حالات میں شادی نہ کرنا سوال:میرے معاشرتی اور مادی حالات ایسے ہیں کہ میں شادی کی عمر سے گذر کر مایوسی کی دہلیز پر جا بیٹھی ہوں، اب میرے لئے شادی کرنا نا ممکن ہے، ا س سلسلہ میں میرے راہنمائی کریں کہ مجھے کیا کرنا چاہیے، ممکن ہے میرے جیسی دوسری لڑکیوں کو بھی اس سے راہنمائی مل جائے؟ جواب: نکاح کے سلسلہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لڑکیوں کے ورثا کو یہ ہدایت دی ہے: ’’ جب تمہارے پاس کسی ایسے شخص کا پیغام آئے جس کا دین اور اخلاق و عادات تمہیں پسند ہوں تو اسے بچی کا رشتہ دے دو، اگر ایسا نہ کرو گے تو پھر زمین میں فتنہ اور فساد ہو گا۔ ‘‘[4] اس حدیث کے پیش نظر ہم لوگ اس بات کے پابند ہیں کہ لڑکی کے نکاح کے لئے دین اور اخلاق کو دیکھا جائے لیکن ہمارا معیار برادری اور مالداری ہے جس نے ہمارے معاشرہ کو تباہ کر کے رکھ دیا ہے، جوان بچیاں شادی کے انتظار میں بوڑھی ہو جاتی ہیں، جیسا کہ سوال میں ذکر ہوا ہے اور وہ مایوس ہو کر گھر میں بیٹھی رہتی ہیں، ایسے حالات میں عورتوں کو چاہیے کہ وہ عجز و انکسار کے ساتھ اللہ کے حضور دعا کریں ، اللہ تعالیٰ ان کے لئے کوئی سبب ضرور پیدا کرے گا، ارشاد باری تعالیٰ ہے: ’’ اور جب میرے بندے آپ سے میرے متعلق دریافت کریں تو انہیں بتا دیں کہ میں بہت قریب ہوں، جب کوئی پکارنے والا مجھے پکارتا ہے تو میں اس کی دعا کو قبول کرتا ہوں ، لوگوں کو چاہیے کہ وہ میرے احکام قبول کریں اور مجھ پر ایمان لائیں تاکہ وہ راہ راست پر آ جائیں ۔ ‘‘[5] اس سلسلہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا درج ذیل ارشاد بھی سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے: ’’ جان لو! یقیناً ناپسندیدہ چیزوں پر صبر کرنے میں بہت سی خیر و بھلائی ہے، یقیناً اللہ کی نصرت ، صبر کے ساتھ ، خوشحالی، بد حالی کے ساتھ اور آسانی تنگی کے ساتھ ہے۔ ‘‘[6] بہر حال ایسی عزت مآب خواتین سے ہماری گذارش ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ سے اپنا تعلق مضبوط اور مستحکم کریں کیونکہ وہی مشکلات کو حل کرنے پر قادر ہے، امید ہے کہ وہ ضرور کشادگی پیدا کرے اور خزانہ غیب سے کوئی بندوبست فرمائے گا تاکہ یہ خواتین باعزت زندگی بسر کر سکیں۔ [1] مسند امام احمد ص ۲۰۱ ج۶۔ [2] ابو داؤد ، النکاح: ۲۰۶۱۔ [3] صحیح مسلم، الرضاع: ۱۴۵۰۔ [4] سنن الترمذی، النکاح : ۱۰۸۴۔ [5] البقرۃ: ۱۸۶۔ [6] مسند امام احمد ص ۳۰۸ ج۱۔