کتاب: فتاویٰ اصحاب الحدیث(جلد 4) - صفحہ 290
بھتیجی کا حصہ سوال:ایک آدمی لا ولد فوت ہوا ، اس کا کوئی رشتہ دار موجود نہیں، صرف دو بھتیجے اور ایک بھتیجی زندہ ہے کیا اس کی جائیداد سے بھتیجے اور بھتیجی دونوں وارث ہوں گے یا صرف بھتیجوں کو حصہ دیا جائے گا؟ جواب: مرنے والے کا ترکہ جب حسب ذیل تین مراحل طے کرے گا تو پھر زندہ ورثا میں تقسیم ہو گا۔ وہ مراحل بالترتیب حسب ذیل ہیں: 1 کفن و دفن : اگر کسی میت کے کفن و دفن کا انتظام کر نے والا کوئی نہ ہو تو اس کے ترکہ سے مناسب انداز میں کفن و دفن کا انتظام کیا جائے گا۔ 2 ادائیگی قرض: کفن و دفن کےاخراجات کے بعد میت کے ذمے جو قرض ہواسے ادا کیا جائے گا خواہ ادائیگی میں تمام ترکہ صرف ہو جائے۔ 3 نفاذ وصیت: ادائیگی قرض کے بعد میت کے باقی ماندہ تر کہ سے میت کی جائز وصیت کو پورا کیا جائے گا۔ جائز وصیت کے لیے ضروری ہے کہ وصیت ، ترکہ کے ایک تہائی سے زائد نہ ہو اور شرعی ورثا کے حق میں وصیت نہ ہو نیز کسی حرام کام کی وصیت نہ کی جائے۔ مذکورہ بالا تین مراحل طے کر نے کے بعد باقی ماندہ ترکہ ورثا میں ان کے حصوں کے مطابق تقسیم کیا جائے گا، پہلے ان ورثا کو دیا جائے جن کے حصے طے شدہ ہیں، پھر عصبات کو دیا جائے، ان کی عدم موجودگی میں ذو الارحام وارث ہوں گے۔ صورت مسؤلہ میں میت کا کوئی رشتہ دار موجود نہیں جو ترکہ سے مقررہ حصہ لیتا ہو، صرف عصبات موجود ہیں، انہیں میت کا تمام ترکہ دیا جائے گا۔ عصبات میں سے صرف دو بھتیجے اس کی جائیداد کے حقدار ہوں گے ، ان کے ساتھ ان کی بہن یعنی میت کی بھتیجی حقدار نہیں ہو گی کیونکہ علم فرائض میں یہ بات طے شدہ ہے کہ صرف چار آدمی اپنی بہنوں کو عصبہ بنا تے ہیں جن کی تفصیل حسب ذیل ہے: 1بیٹا، اپنی بہنوں کو عصبہ بنائے گا۔ 2پوتا بھی اپنی بہن یعنی میت کی پوتی کو عصبہ بنائے گا۔ 3حقیقی بھائی کی موجودگی میں حقیقی بہن عصبہ بنتی ہے۔ 4 پدری بھائی کے ساتھ اس کی پدری بہن عصبہ بنے گی۔ ان کے علاوہ کوئی رشتہ دار اپنی بہنوں کو عصبہ نہیں بنا تا۔لہذا مذکورہ صورت میں صرف دو بھتیجے وارث ہوں گے ، بھتیجی محروم رہے گی۔ (واللہ اعلم ) مسئلہ وراثت سوال:ہمارے والد فوت ہو ئے تو اس وقت ہم دو بھائی اور چار بہنیں زندہ تھے، انھوں نے وصیت کی تھی کہ بڑے لڑکے نے میری خدمت کی ہے لہذا رہائشی مکان اسے دیا جائےاور باقی جائیداد تقسیم کر لی جائے، کیا ایسا کرنا جائز ہے نیز بتائیں کہ جائیداد کس طرح تقسیم کی جا ئے گی ؟